Sunday, 1 July 2012

فطرت کی آواز


Listen to Nature

میرے سامنے پاکستان کی مہنگائی اور دنیا بھر کے موجودہ اقتصادی حالات اور گرتی ہوئی معیشت کے اعداد و شمار ہیں، جنھوں نے پوری دنیا کو بہ شمول پاکستان اپنی لپیٹ میں جکڑ رکھا ہے۔ لیکن میرا موضوع یہ معاشی حالات ہیں اور نہ عالمی کساد بازاری... مجھے اس بات کی فکر بھی کھائے نہیں جارہی کہ عالمی معیشت کا کیا بنے گا؟ ہاں، میرا موضوع پاکستان کا وہ طبقہ ہے جو بہ راہِ راست اس مہنگائی اور معاشی نشیب و فراز سے متاثر ہے۔ مجھے اس بات کی فکر ہے کہ
یہ طبقہ (جس میں خاص طور پر نوجوان شامل ہیں) اس اُتار چڑھاؤ کو دیکھنے، سننے اور چکھنے کے باوجود نہیں جاگا اور نہ جاگنے کو تیار ہے۔ وہ اپنی روش پر چل رہا تھا، بہ دستور محوِ سفر ہے۔ اسے اس کا شعور بھی نہیں کہ وہ جس راستے پر سفر کر رہا ہے، وہ کہاں جا کر ختم ہوگا۔ اسے یہ احساس بھی نہیں کہ وہ سراب کے تعاقب میں ہے۔ اسے یہ اندازہ بھی نہیں کہ اس کی منزل کیا ہے۔ اسے یہ بھی خبر نہیں کہ اس منزل کے لیے اسے کون سی حکمت عملی اختیار کرنی ہوگی۔ اسے یہ جانچنے کی ترغیب بھی نہیں ملی کہ خدا کی عطا کردہ کیا کیا صلاحیتیں اس کے پاس ہیں اور وہ ان سے کام نہیں لے رہا۔ اسے یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ کیسے اپنے مسائل کو حل کرسکتا اور اپنی زندگی کے دن پھیر سکتا ہے۔
غربت، پریشانی، ناکامی... بہ ذاتِ خود بری نہیں ہیں۔ یہ تو انسان کو آگے بڑھنے کا حوصلہ اور ایندھن فراہم کرتی ہیں۔ پرندے کے راستے میں آنے والی ہوا اُسے اڑان کے لیے سہارا فراہم کرتی ہے تو زمین کی کشش چلنے والے کو قدم آگے بڑھانے کے لیے قوت عطا کرتی ہے۔ لیکن جہاں ہوا اور کشش انسان کو تحریک دینے والے عامل نہ رہیں بلکہ رکاوٹیں گردانے جائیں، وہاں نہ اڑان ممکن ہے اور نہ قدم بڑھانا آسان ہے۔ جہاں اپنے حالات کی تبدیلی کا ذمے دار خود کو تسلیم نہ کیا جائے، وہاں کوئی بہتری پیدا کرنا بھی محال ہے۔ جس کے خیال میں اس کے تمام مسائل اور پریشانیوں کا اصل سبب سرکاری پالیسیاں اور بالخصوص امریکی سازشیں ہوں، اس کو مسائل کے حل پر لگانا مشکل ہے۔
اس وقت پاکستان میں جس طبقے پر نظردوڑائیے، آپ کو اسی مزاج کی کارفرمائی دکھائی دے گی... کہیں صوبے کی بنیاد پر، کہیں زبان کی بنیاد پر، کہیں مسلک کی بنیاد پر، کہیں رنگ کی بنیاد پر، کہیں نسل اور ذات کی بنیاد پر اپنی تمام تر پریشانیوں اور مسئلوں کا ذمے دار دوسروں کو قرار دیا جارہا ہے۔ جیسے بیماری سے زیادہ خطرناک بیماری کا احساس نہ ہونا ہوتا ہے، اسی طرح مسئلے کا خود کو ذمے دار نہ سمجھنا مسئلے سے کہیں زیادہ خطرناک روش ہے۔ اور یہ روش ہمارے ہر طبقے میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ امیر طبقے کے نوجوان انٹرنیٹ اور موویز سے اپنا جی بہلانے میں مصروف ہیں تو متوسط اور زیریں طبقے کا نوجوان ڈبو اور سگرٹ سے اپنا غم غلط کرنے میں لگا ہوا ہے۔ پھر موبائل فون تو ایسی لت ہے جس سے کوئی بھی محفوظ نہیں۔ مزید یہ کہ رات کے مفت پیکیجز نوجوانوں کو بے حیائی اور بے راہ روی کا قانونی لائسنس فراہم کرنے کے مترادف ہیں۔
افرادِ قوم کی سوچ محدود ہوچکی ہے اور جذباتی حالت (emotional state)منفی ہے۔ میں یہ مناظر دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں،کیا وہ وقت ابھی نہیں آیا کہ ہم خود کو بدلیں؟ کیا وہ تحریک ہمارے اندر پیدا نہیں ہوگی کہ ہم سوچیں اور یہ سمجھیں کہ ہمیں اپنے پیروں پر خود کھڑا ہونا ہوگا؟ کیا ہم اس نکتے پر غور کرنے کے قابل نہیں ہوئے کہ اپنے حالات کو بدلنے اور بہتر بنانے کی فکر کریں؟ کیا ہمارے دل اتنے لطیف نہیں کہ ہم اپنی حالت کے بارے میں متشوش ہوں؟ کیا ہمیں یہ احساس نہیں کہ یہ دنیا کی محفل اسی کی ہے جو بڑھ کر جام تھام لے؟
ہمارا عمومی قومی مزاج یہ بن چکا ہے کہ ہم کوئی ذمے داری قبول کرنے کو تیار نہیں۔ ہمیں کسی کام میں تنوع اور اختراع سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ کام سے اکتاہٹ اور تفریح سے دلچسپی ہماری طبیعت کا خاصہ بن چکے ہیں۔ ہم اس لیے پیچھے ہیں کہ ہم آگے بڑھنے کے لیے تیار نہیں۔ ہم اس لیے ناکام ہیں کہ ہمیں کامیابی سے خوف آتا ہے۔ ہم اس لیے ترقی نہیں کرپاتے کہ ہم محنت کے لیے آمادہ نہیں۔
یاد رہے، خدا زمین پر آکر آپ سے نہیں کہے گا کہ اگر محنت کروگے تو کامیاب ہوگے۔ یہ تو اس کے تخلیق کردہ فطری نظام کی آواز ہے جس کا خلاصہ ہم نے بیان کردیا۔ اس آواز پر جو لبیک کہے گا، وہ ہی کامیاب ہوگا... خواہ وہ فرد ہو، معاشرہ ہو یا قوم ہو... اور اس کا تعلق کسی بھی نسل، وطن اور مذہب سے ہو۔ لیکن کون ہے جو اِس آواز پر کان دھرے گا؟ ہم اس کے ساتھ ہیں... اور ہمیں اس کا ساتھ چاہیے!

No comments:

Post a Comment