پاکستان اور ہندستان کی فلموں میں ایک زمانے میں ’’بابو‘‘ مرکزی کردار کی حیثیت رکھتا تھا۔ خاص طور پر بیسویں صدی کے پانچویں اور چھٹے عشرے کی فلموں میں پوری فلم ’’بابو‘‘ کے گرد گھوما کرتی تھی۔ یہ بابو ایک سرکاری یا نجی ادارے میں معمولی درجے کا کلرک ہوا کرتا تھا، اور اس پر گاؤں کی گوری فدا ہواکرتی تھی۔
فلم کی حد تک ہی نہیں، معاشرے میں ایسے بے شمار ’’بابو‘‘ موجود تھے جو میٹرک کرکے کسی سرکاری یا نیم سرکاری یا غیر سرکاری ادارے میں کلرکی کو دنیا کی ہر شے پر ترجیح دیا کرتے تھے۔ بابو کسی فرد کا نام نہیں، ایک مزاج کی علامت ہے۔ آج کی فلموں میں ضرورت کے لحاظ سے اگرچہ ’’بابو‘‘ کا مرکزی کردار تو نہ رہا، البتہ معاشرے میں بابوؤں کا تناسب گزشتہ چالیس برس میں کہیں زیادہ بڑھ چکا ہے۔
بابو... ایسے مزاج کا نام ہے جس میں افراد کو اس بات کی فکر ہوتی ہے کہ کم سے کم ذمے داری میں زیادہ سے زیادہ کمائی کیسے کی جاسکے؛ اپنی ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں کو کم سے کم استعمال کرنا پڑے؛ تخلیقی صلاحیتوں کے تو قریب بھی نہ پھٹکا جائے؛ تمامکام کسی میز تک محدو ہو؛ نو سے پانچ کی ملازمت ہو؛ جو کام اسے دیا جائے وہ کردے؛ ایک روٹین کی (لگی بندھی) زندگی ہو؛ ہر مہینے ایک لگی بندھی تنخواہ اسے مقررہ تاریخ پر مل جایا کرے، وغیرہ وغیرہ۔
میٹرک پاس کلرک یا بابو یا دور تو گزر گیا۔ ہر شعبے نے ترقی اور تعلیم میٹرک سے ماسٹرز تک پہنچی تو اکیسیوں صدی میں میٹرک پاس کلرک یا بابو نے ایم بی اے پاس آفیسر کی شکل اختیار کرلی۔ پانچوی چھٹے عشرے کا میٹرک پاس کلرک ہو یا ایم بی اے پاس آفیسر.... دونوں مزاجاً ’’بابو‘‘ ہیں۔ فرق ہے تو یہ کہ دونوں کی تعلیمی قابلیت مختلف ہے، ایک پینٹ شرٹ پہنتا تھ تو دوسرا ٹائی اور تھری پیس، ایک عام سی میز کرسی پر بیٹھتا تھا تو دوسرا ایر کنڈیشنڈ کمرے میں، ایک اپنی تنخواہ میں پورا مہینہ بہ مشکل نکال پاتا تھا اور دوسرا اپنی کار اور فلیٹ کے لون کی قسطیں ادا کرنے کے بعد بہ مشکل گزارا کرپاتا ہے۔
پاکستانی معاشرے میں ایم بی اے پاس کرنے والے نوجوان اکیسیوں صدی کے تھیر پیس کلرک سے زیادہ نہیں (الا ماشاء اللہ)، کیوں کہ وہ اتنی تعلیم حاصل کرنے اور لاکھوں روپیہ اپنے اوپر خرچ کرنے کے باوجود ’’بابو‘‘ کی روایتی اور خطرناک صفات سے متصف ہوتے ہیں۔ ان کے نزدیک ان کی زندگی کا اس سے بڑا کوئی ہدف، کوئی مقصد نہیں ہوتا۔ ہمارا میٹرک سسٹم بالخصوص اور دوسرے رائج تعلیمی نظام بالعموم طالب علم کا جو مزاج تشکیل کرتے ہیں ایم بی اے کرنے کے بعد اس مزاج کی شدت میں کہیں اضافہ ہوچکا ہوتا ہے۔
اگر غور کیا جائے تو یہ ’’بابو‘‘ دراصل شاخ سانہ ہے اس تعلیمی نظام کا جو انگریز اپنے ساتھ اس ملک میں لایا، اور آج اس کی ایک بڑی فصل ہم کاٹ رہے ہیں۔ جب کوئی نئی یونیورسٹی کھلتی ہے تو مجھے افسوس ہوتا ہے ہ لو، پاکستان میں بابو تیار کرنے کی ایک اور نرسری تیار ہوگئی۔ ہماری یونیورسٹیز جو بہ قول ڈاکٹرعطاء الرحمان، محض اسکول ہیں، ڈگریاں دیتی ہیں، اپنے طلبہ میں تحقیق اور تخلیق کا شعور اور مزاج پیدا نہیں کرتیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہماری معیشت جن لوگوں کے ہاتھوں میں ہے، انھیں تخلیق اور تحقیق کرنے والے کارکن نہیں چاہئیں، انھین ایسی انسان نما مشینوں کی ضرورت ہے جو اُن کے اداروں کو ان کی عین مرضی کے مطابق چلاسکیں۔
کوئی ملک اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتا جب تک اس مک کے اکثریتی باشندے ’’بابو‘‘ بننے کی بہ جائے خود اپنا کام کرنے کو ترجیح نہ دیں، خواہ وہ پتھارا ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن جس قوم کے افراد اپنی عزت اور ترقی نوکری میں سمجھیں تو پھر ان کے لیے ٹھیلا لگانا اور خود داری کے ساتھ کمانا ناقابل ہضم اور ناقابل عمل ہوتا ہے۔ بہ قول الطاف حسین حالی:
زوالِ قوم کی ابتدا وہی تھی کہ جب
تجارت کی ترک آپ نے، نوکری کرلی

No comments:
Post a Comment