Saturday, 14 July 2012

خریدا ہوا مال واپس یا تبدیل نہیں ہوگا

چند روز پہلے میں کچھ خریداری کرنے بازار گیا تو جو چیز مجھے درکار تھی، وہ مجھے ایک دکان سے نہیں ملی۔ دکان دار نے بڑے روکھے انداز میں مجھے بتایا کہ اس کے پاس میری مطلوبہ شے نہیں ہے۔  میں نے دکان دار سے گزارش کی کہ آپ یہ جواب خوش اخلاقی اور خوش اسلوبی سے بھی دے سکتے تھے۔ اس پر وہ دکان دار مزید بپھر گیا اور بولا، کیا تمھارے پاؤں پکڑ لوں؟

بہ حیثیت مجموعی، ہم نے اخلاق اور تجارت کو دو الگ الگ چیزیں سمجھ لیا ہے، جیسے سیاست، قیادت اور کاربار کو دین سے الگ کردیا ہے۔ اس مزاج نے ہمارے رگ و ریشے پر یہ سوچ سوار کردی کہ گاہک انسان نہیں، ایک ایسی جنس ہے جس کی قیمت ہے اور اس قیمت کا معیار صرف یہ ہے کہ وہ کتنی مہنگی شے میری دکان سے خریدنے آتا ہے۔ اگر گاہک نے ایسی شے مانگی ہے جو میری دکان پر موجود ہے تب تو وہ گاہک میرے لیے قابل قدر ہے، لیکن اس کی طلب کے مطابق شے میری دکان پر موجود نہیں تو ایسا گاہک میرے لیے کوئی حیثیت نہیں رکھتا کیوں کہ اس سے مجھے کوئی مالی فائدہ نہیں ہوگا۔ یہی وجہ ہے، دکانوں پر یہ جملہ عام طورپر آویزاں ہوتا ہے، ’’خریدا ہوا مال واپس یا تبدیل نہیں ہوگا۔‘‘
میں سوچتا ہوں، جس طرح ہمارے ہاں کا ایک طالب علم اپنی طالب علمی سے مخلص نہیں، ملازم اپنے ادارے سے دیانت برتنے کو تیار نہیں، ماں باپ کو اولاد کی تربیت کا سلیقہ نہیں، اسی طرح ایک دکان دار بھی اپنی دکان سے بیزار ہے۔ زندگی کے دیگر شعبوں سے وابستہ افراد کی طرح دکان دار بھی دکان داری کے آداب و اصول سے لاعلم ہے؛ اور اس سے زیادہ خطرناک بات یہ کہ اپنی اس لاعلمی پر وہ بے نیاز ہے۔
مجھے وہ واقعہ بھی یاد آرہا ہے جب ایک ہی محلے میں ایک مسلمان اور ایک یہودی کی دکانیں آمنے سامنے تھیں اور گاہک زیادہ تر مسلمان کی دکان ہی سے سودا خریدا کرتے تھے۔ لیکن جب مسلمان دکان دار نے یہ دیکھا کہ تمام گاہک صرف میری دکان سے سودا خرید رہے ہیں اور یہودی کی دکان سُونی پڑی ہے تو مسلمان دکان دار نے اپنے پاس آنے والے چند گاہکوں کو یہودی کی دکان پر بھیجنا شروع کردیا تاکہ یہودی بھی کچھ دکان داری کرکے منافع کماسکے۔ مسلمان دکان دار کے اس عمل پر یہودی نے اسلام قبول کرلیا۔
کاربار چھوٹا ہو یا بڑا، نیا ہو یا پُرانا... کارباری ساکھ اصل ہے۔ زندگی میں ایک کارباری فرد کے لیے کارباری ساکھ بڑی اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے، ایک اچھا اور منجھا ہوا دکان دار یا کارباری فرد ہر حال میں اپنے کاربار کی ساکھ کو بحال رکھنے کی فکر کرتا ہے۔ اس کے لیے وہ سو جتن کرتا ہے۔ وہ Once a customer, always a customer کے فارمولے پر عمل کرتا ہے۔ لیکن ہمارے ہاں کارباری فکر یہ بن گئی ہے کہ ایک دفعہ جو کسٹمر ہماری دکان پر آیا ہے، اس کی جیب میں جو کچھ ہے، سب کچھ نکلوالو، نہ جانے اگلی مرتبہ وہ ہماری دکان کے بارے میں سوچے بھی یا نہ سوچے۔
روزگار یا کاربار بلاشبہ، آج کی دنیا میں زندگی کا سب سے اہم شعبہ ہے۔ لیکن زندگی کے دیگر شعبوں کی طرح ہم نے جس طرح ان سے وابستہ کامیابی کے اصولوں کو ہم نے بالائے طاق رکھ دیا ہے، اسی طرح کاربار میں کامیابی کے اصولوں کو بھی تج دیا گیا ہے۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ اول تو کاربار جمتے نہیں، اور چلتے ہیں تو ان میں وہ رمق اور تحریک موجود نہیں ہوتی جس کی ضرورت ایک کامیاب کاربار کے لیے ضروری ہے۔ زندگی کے تمام شعبوں کی طرح اللہ تعالیٰ نے معاش کے بھی قوانین فطرت طے فرمادیے ہیں جو ہر وقت اس کائنات میں جاری و ساری ہیں۔ جب تک ہم ان قوانین فطرت کی پاس داری و پابندی نہیں کرتے، ہمارے معاشی مسائل تمام تر بجٹوں اور ٹیکسوں کے باوجود روز افزوں بڑھتے ہی رہیں گے، خواہ ان کا تعلق فرد سے ہو، ادارے سے یا ملک سے!

No comments:

Post a Comment