![]() |
| Before changing the system |
معاشرے پر نظر ڈورائیں تو
عمومی طور پر تین قسم کے افراد نظر آتے ہیں: ایک تو وہ جو دن رات کسی قسم کا احساس
کیے بغیر اپنے کاموں میں مگن ہیں اور انھیں دوسرے فرد یا معاشرے سے کوئی سروکار
نہیں۔ دوسری قسم کے افراد وہ ہیں جنھیں معاشرے کی اخلاقی ابتری کا احساس ہے، مگر
سوائے کڑھنے یا چند ہم خیال دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر خامیاں اور برائیاں ذکر کرنے
کے کچھ نہیں کرتے۔ تیسری قسم کے افراد
نہ صرف معاشرے کی ابتری اور زوال پر کُڑھتے ہیں بلکہ اس کی اصلاح اور بہتری کے لیے سوچتے اور تدبیر بھی اختیار کرتے ہیں۔ اس قسم کے افراد کی تعداد سب سے کم ہے۔
تیسری قسم کے افراد اگرچہ ہمارے معاشرے میں بہتری پیدا کرنے کے خواہاں ہے، ان میں سے اکثر کا زاوےۂ نظر اور جدوجہد کا مرکز نظام کی تبدیلی ہے۔ ان کا ہدفِ تبدیلی اور ہدفِ تنقیدی ’نظام‘ ہوتا ہے۔ یہ بات اپنی جگہ سو فی صدی درست ہے کہ کسی معاشرے کا نظام ہی اس پورے معاشرے کے اخلاقی، معاشی، معاشرتی اور ذہنی سانچے کی تشکیل میں اہم ترین عامل ہوتا ہے۔ نظام ہی اپنے معاشرے میں بسنے والے افراد کے ذہن کو اس رُخ پر پھیرتا ہے کہ وہ اچھے یا برے، ذمے دار یا غیر ذمے دار، موثر یا غیر موثر کرداراور رویے کا مظاہرہ کرسکیں۔
لیکن کیا ایسا ممکن ہے کہ ہم نظام کو تبدیل کرکے معاشرے میں بسنے والے افراد کے ذہنی رویے اور کردار کو یک لخت تبدیل کرسکیں؟
یقیناًنہیں!
انسانی رویے اور کردار کی تشکیل اس کا ذہن یا اس کی سوچ کرتی ہے۔ زندگی کی تجربہ گاہ میں یہ بات ہزار برس کے تجربات کے بعد ثابت ہوچکی ہے کہ کسی فرد کی سوچ کو بدلنا سب سے مشکل کام ہے۔ چنانچہ جب تک آپ سوچ کو تبدیل نہیں کرتے، آپ کے اس رویے اور کردار کو بھی بدل نہیں سکتے۔ قدرت کے فطری نظام میں پہلے رویے کی تبدیلی ہے اور اس کے بعد نظام کی تبدیلی۔ رویے کی تبدیلی جڑ ہے اور نظام کی تبدیلی اس کی شاخیں۔ نظام فطرت میں یہ ممکن نہیں کہ آپ جڑوں سے پہلے اس کی شاخوں سے فائدہ اٹھا سکیں۔ اسی طرح کسی بھی معاشرے میں بہترین سے بہترین نظام، افراد کے افعال کو بدل نہیں سکتا، جب تک ان کا رویہ اس نظام سے ہم مطابق نہ ہو، جب تک وہ ذہنی طور پر اس نظام پر عمل کرنے کے لیے تیار نہ ہوں۔
ان تمام حضرات کی نیتیں اور کوششیں یقیناًقابل قدر ہیں جو معاشرے کی اصلاح اور بہتری کے لیے نظام کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں، لیکن قانونِ فطرت کے خلاف چل کر وہ کبھی مثبت نتائج حاصل نہیں کرسکتے، خواہ وہ اپنی ذات میں کتنے ہی پُر خلوص کیوں نہ ہوں۔
نظام کی تبدیلی سے پہلے فرد کی تبدیلی ضروری ہے، اس کا کوئی متبادل نہیں۔ البتہ اس کے لیے انتہائی صبر اور برداشت کی ضرورت ہے جو شاید معاشرے کی درج بالا تینوں قسموں میں سے عنقا ہوچکا ہے۔
نہ صرف معاشرے کی ابتری اور زوال پر کُڑھتے ہیں بلکہ اس کی اصلاح اور بہتری کے لیے سوچتے اور تدبیر بھی اختیار کرتے ہیں۔ اس قسم کے افراد کی تعداد سب سے کم ہے۔
تیسری قسم کے افراد اگرچہ ہمارے معاشرے میں بہتری پیدا کرنے کے خواہاں ہے، ان میں سے اکثر کا زاوےۂ نظر اور جدوجہد کا مرکز نظام کی تبدیلی ہے۔ ان کا ہدفِ تبدیلی اور ہدفِ تنقیدی ’نظام‘ ہوتا ہے۔ یہ بات اپنی جگہ سو فی صدی درست ہے کہ کسی معاشرے کا نظام ہی اس پورے معاشرے کے اخلاقی، معاشی، معاشرتی اور ذہنی سانچے کی تشکیل میں اہم ترین عامل ہوتا ہے۔ نظام ہی اپنے معاشرے میں بسنے والے افراد کے ذہن کو اس رُخ پر پھیرتا ہے کہ وہ اچھے یا برے، ذمے دار یا غیر ذمے دار، موثر یا غیر موثر کرداراور رویے کا مظاہرہ کرسکیں۔
لیکن کیا ایسا ممکن ہے کہ ہم نظام کو تبدیل کرکے معاشرے میں بسنے والے افراد کے ذہنی رویے اور کردار کو یک لخت تبدیل کرسکیں؟
یقیناًنہیں!
انسانی رویے اور کردار کی تشکیل اس کا ذہن یا اس کی سوچ کرتی ہے۔ زندگی کی تجربہ گاہ میں یہ بات ہزار برس کے تجربات کے بعد ثابت ہوچکی ہے کہ کسی فرد کی سوچ کو بدلنا سب سے مشکل کام ہے۔ چنانچہ جب تک آپ سوچ کو تبدیل نہیں کرتے، آپ کے اس رویے اور کردار کو بھی بدل نہیں سکتے۔ قدرت کے فطری نظام میں پہلے رویے کی تبدیلی ہے اور اس کے بعد نظام کی تبدیلی۔ رویے کی تبدیلی جڑ ہے اور نظام کی تبدیلی اس کی شاخیں۔ نظام فطرت میں یہ ممکن نہیں کہ آپ جڑوں سے پہلے اس کی شاخوں سے فائدہ اٹھا سکیں۔ اسی طرح کسی بھی معاشرے میں بہترین سے بہترین نظام، افراد کے افعال کو بدل نہیں سکتا، جب تک ان کا رویہ اس نظام سے ہم مطابق نہ ہو، جب تک وہ ذہنی طور پر اس نظام پر عمل کرنے کے لیے تیار نہ ہوں۔
ان تمام حضرات کی نیتیں اور کوششیں یقیناًقابل قدر ہیں جو معاشرے کی اصلاح اور بہتری کے لیے نظام کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں، لیکن قانونِ فطرت کے خلاف چل کر وہ کبھی مثبت نتائج حاصل نہیں کرسکتے، خواہ وہ اپنی ذات میں کتنے ہی پُر خلوص کیوں نہ ہوں۔
نظام کی تبدیلی سے پہلے فرد کی تبدیلی ضروری ہے، اس کا کوئی متبادل نہیں۔ البتہ اس کے لیے انتہائی صبر اور برداشت کی ضرورت ہے جو شاید معاشرے کی درج بالا تینوں قسموں میں سے عنقا ہوچکا ہے۔

No comments:
Post a Comment