وہ میرے قریبی دوستوں میں سے ہیں۔ اعلاتعلیم یافتہ اور با اَخلاق شخصیت کے مالک ہیں۔ محفل میں دل سے شریک ہوتے ہیں اور لوگوں سے گھل مل کر بات چیت کرتے ہیں۔ اپنے پروفیشن کے حوالے سے وہ مجھ سے خاصی گفت گو کرتے اور میرے اختلافات کو پوری توجہ سے سنتے ہیں۔ میرے مشوروں پر توجہ دیتے ہیں اور اپنی خامیوں کودور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ میرے خیال میں وہ ایک وسیع ظریف اور سلیم طبع آدمی ہیں۔ گزشتہ دنوں ایسی ہی ایک محفل میں ان سے ایک مذہبی مسئلے پر بات چھڑ گئی میں نے ان کی رائے سے حسب عادت اختلافات کیا تو خلافِ توقع وہ ایک دم غصے میں آگئے۔
مجھے ان سے اس ردِعمل کی توقع نہ تھی، کیوں کہ وہ اپنے بارے میں ہمیشہ میرے اختلافات کو قدر کی نظر سے دیکھتے رہے ہیں۔ مذکورہ مذہبی معاملے پر میں نے اپنی بات کی مزید وضاحت کرنا چاہی تو انھوں نے مجھے کفر اور نفاق کے مقام پر لاکھڑا کیا۔ وہ میرے کسی اختلاف اور کسی دلیل کو یک سر سننے کو تیار نہ تھے۔ میں ان کے اس رویے پر حیران تھا کہ اس قدر متواضع اور متقی طبیعت کا مالک آدمی جو اپنے پروفیشن کے بارے میں بڑے سے بڑا اختلاف سننے کو بہ خوشی تیار رہتا ہے، مذہب کے حوالے سے ایک بات بھی سننے کو تیار نہیں۔ وہ کسی شعوری بات کو ہضم کرنے پر آمادہ نہیں۔
یہ رویہ ایک مسئلہ ہے... صرف میرے دوست کا نہیں، تقریباً تمام قوم کا۔ ہم اپنی بہترین صلاحیتیں...عقل، سوچ بچار، شعور... اپنے گھر بار، اپنے پروفیشن، اپنے مستقبل کو بہتر سے بہتر بنانے پر لگاتے ہیں۔ اس کے لیے دوسروں کی کڑوی کسیلی بھی سنتے ہیں۔ دن رات غور و خوض کرتے اور اچھے برے پس منظر و پیش منظر کے تانے بانے بھی بنتے ہیں... مگر... کیا ہمارا دین، ہمارا مذہب اس قابل نہیں کہ ہم اس پر چند لمحوں کے لیے غور کریں (بنیادی اصولِ دین کو چھوڑ کر)۔ کچھ دیر کے لیے کسی کی اختلافی رائے کو برداشت کرلیں، مذہبی واقعات (اور بالخصوص مذہبی تنظیموں کے بیانات اور خبروں) کی روشنی میں اچھے برے پس منظر و پیش منظر کا تجزیہ کرسکیں۔ آدمی جس چیز کو جتنی زیادہ اہمیت دیتا ہے، اس پر اتنی ذہنی، جسمانی، تخلیقی قوتیں خرچ کرتا ہے۔ ہم اپنے گھر بار، بیوی بچوں، اور خاص طور پر اپنے کیریر پر اپنی بہترین ذہنی اور جسمانی توانائیاں لگاتے ہیں، مگر مذہب کا معاملہ ہو تو ہم کچھ سوچنے سمجھنے کو تیار نہیں۔ دنیاوی مسائل ہوں تو غور و فکر کرتے ہیں؛ دینی معاملات میں بحث و تکرار کرتے ہیں اور نعرے لگاتے ہیں۔ کیا ہمارے نزدیک ہمارے مذہب کی حیثیت ہمارے پروفیشن، اور گھربار جتنی بھی نہیں؟ ہم زبان سے شاید یہ بات تسلیم نہ کریں، لیکن عمل سے اس کا ثبوت ضرور دیتے ہیں۔

No comments:
Post a Comment