زندگی کا سب سے مشکل کام کیا ہے؟
کبھی آپ نے یہ سوال اپنے آپ سے کیا؟
جواب بہت آسان ہے: تبدیلی!
انسانی زندگی کا سب سے مشکل کام تبدیلی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آدمی ہر لمحہ اس فکر میں رہتا ہے کہ فلاں تبدیلی کے نتیجے میں نہ معلوم کیا ہوگا، اسے کیا نیا کام کرنا پڑے گا۔ چنانچہ آدمی اپنے تئیں اس تبدیلی اور اس کے اثرات سے بچنے کی شدید ترین کوشش کرتا رہتا ہے۔
کبھی آپ نے یہ سوال اپنے آپ سے کیا؟
جواب بہت آسان ہے: تبدیلی!
انسانی زندگی کا سب سے مشکل کام تبدیلی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آدمی ہر لمحہ اس فکر میں رہتا ہے کہ فلاں تبدیلی کے نتیجے میں نہ معلوم کیا ہوگا، اسے کیا نیا کام کرنا پڑے گا۔ چنانچہ آدمی اپنے تئیں اس تبدیلی اور اس کے اثرات سے بچنے کی شدید ترین کوشش کرتا رہتا ہے۔
ایک مثال لے لیجیے۔ کبھی آپ نے کسی شے کی قیمت میں اضافے کے بعد
لوگوں کے ردِ عمل کا جائزہ لیا؟ کیا مہنگی ہونے والی شے کی فروخت میں کمی ہوئی؟
کیا جس چیز کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے، اس کی مارکیٹ گرگئی؟ کیا قیمت میں اضافے کے
بعد عوام نے اسے ترک کیا؟ ان تمام سوالوں کا جواب ایک ہے: ’’نہیں!‘‘
تو پھر ہم کسی شے کی قیمت میں اضافے پر واویلا کیوں مچاتے اور مظاہرے کیوں کرتے ہیں؟ اس کی وجہ بھی تبدیلی ہے۔ ہوتا یہ ہے کہ جب کسی شے کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے تو ہم اس خوف میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ اب ہمیں اپنے طرز و انداز کو بدلنا پڑے گا۔ تبدیلی کا یہ خوف ہمیں سڑکوں پر لاتا ہے، ہنگامے کراتا اور ہڑتالیں کراتا ہے۔ لیکن جلد ہی ہم تبدیلی سے بچاؤ کی کوئی صورت (مثلاً، اپنی آمدنی میں اضافہ، بد دیانتی میں اضافہ، یا کوئی اور حربہ) تلاش کرلیتے ہیں۔ تبدیلی کا خوف ہمارے دلوں سے نکل جاتا ہے اور ہم دوبارہ وہ شے قیمت بڑھنے کے باوجود استعمال کررہے ہوتے ہیں۔
اکثر لوگ بڑے بڑے خواب دیکھنے کے باوجود ان خوابوں کی تعبیر نہیں پاتے اور کامیاب نہیں ہوتے، اس کی وجہ بھی تبدیلی ہی ہے۔ زندگی میں کچھ غیر معمولی حاصل کرنے اور عام لوگوں سے بڑھ کر کچھ کرنے کے لیے اپنی زندگی کے طرز و انداز میں بڑی تبدیلیاں درکار ہوتی ہیں۔ لیکن لوگ تو چھوٹی چھوٹی اور معمولی سی تبدیلی کے لیے تیار نہیں ہوتے تو بڑی تبدیلی اپنے اندر کیسے لاسکتے ہیں۔ چناں چہ بڑے بڑے خواب دیکھنے والے بھی اپنی زندگی عام ڈگر پر گزار کر چلے جاتے ہیں۔ وہ معروف، کامیاب اور غیر معمولی لوگوں کی صف میں جگہ نہیں بنا پاتے۔ صرف اس لیے کہ تبدیلی کا خوف انھیں اپنے اندر تبدیلی نہیں کرنے دیتا۔ اس کے برخلاف جو لوگ اس خوف پر قابو پالیتے ہیں اور طرز و اندازِ حیات بدل ڈالتے ہیں، کامیاب اور پُر اثر افراد کی صف میں شمار کیے جانے لگتے ہیں۔
اگر آپ کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو کچھ نہ کریں، بس اپنی زندگی کے طرز اور انداز میں تبدیلی کے لیے خود کو تیار کرلیجیے، آپ کچھ ہی اپنے خواب اور منزل کی جانب عازمِ سفر ہوں گے۔
تو پھر ہم کسی شے کی قیمت میں اضافے پر واویلا کیوں مچاتے اور مظاہرے کیوں کرتے ہیں؟ اس کی وجہ بھی تبدیلی ہے۔ ہوتا یہ ہے کہ جب کسی شے کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے تو ہم اس خوف میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ اب ہمیں اپنے طرز و انداز کو بدلنا پڑے گا۔ تبدیلی کا یہ خوف ہمیں سڑکوں پر لاتا ہے، ہنگامے کراتا اور ہڑتالیں کراتا ہے۔ لیکن جلد ہی ہم تبدیلی سے بچاؤ کی کوئی صورت (مثلاً، اپنی آمدنی میں اضافہ، بد دیانتی میں اضافہ، یا کوئی اور حربہ) تلاش کرلیتے ہیں۔ تبدیلی کا خوف ہمارے دلوں سے نکل جاتا ہے اور ہم دوبارہ وہ شے قیمت بڑھنے کے باوجود استعمال کررہے ہوتے ہیں۔
اکثر لوگ بڑے بڑے خواب دیکھنے کے باوجود ان خوابوں کی تعبیر نہیں پاتے اور کامیاب نہیں ہوتے، اس کی وجہ بھی تبدیلی ہی ہے۔ زندگی میں کچھ غیر معمولی حاصل کرنے اور عام لوگوں سے بڑھ کر کچھ کرنے کے لیے اپنی زندگی کے طرز و انداز میں بڑی تبدیلیاں درکار ہوتی ہیں۔ لیکن لوگ تو چھوٹی چھوٹی اور معمولی سی تبدیلی کے لیے تیار نہیں ہوتے تو بڑی تبدیلی اپنے اندر کیسے لاسکتے ہیں۔ چناں چہ بڑے بڑے خواب دیکھنے والے بھی اپنی زندگی عام ڈگر پر گزار کر چلے جاتے ہیں۔ وہ معروف، کامیاب اور غیر معمولی لوگوں کی صف میں جگہ نہیں بنا پاتے۔ صرف اس لیے کہ تبدیلی کا خوف انھیں اپنے اندر تبدیلی نہیں کرنے دیتا۔ اس کے برخلاف جو لوگ اس خوف پر قابو پالیتے ہیں اور طرز و اندازِ حیات بدل ڈالتے ہیں، کامیاب اور پُر اثر افراد کی صف میں شمار کیے جانے لگتے ہیں۔
اگر آپ کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو کچھ نہ کریں، بس اپنی زندگی کے طرز اور انداز میں تبدیلی کے لیے خود کو تیار کرلیجیے، آپ کچھ ہی اپنے خواب اور منزل کی جانب عازمِ سفر ہوں گے۔

No comments:
Post a Comment