Thursday, 5 July 2012

بد ترین حالت



کسی قوم یا فرد کی بدترین حالت وہ ہوتی ہے جب اس کی سوچ زنگ آلود ہوجائے۔ سوچ، نظر نہیں آتی، مگر حال اور مستقبل کی تعمیر اور تخریب میں اسی کا ہاتھ کارفرما ہوتا ہے۔ دنیا میں، فرد ہو یا قوم، اس کی سوچ ہی اس کی منزل کا تعین کرتی ہے۔ سوچ نہ صرف باہر کے افعال کا ظہور کرتی ہے بلکہ اندر کی کیفیت بھی بیان کرتی ہے۔ بات قوم کی ہو تو قوم کی مجموعی سوچ ہی اس کے دن رات اور انفرادی و اجتماعی مفادات کو سمت عطا کرتی ہے۔
 

حالات کیسے درست ہوں گے؟ نظام کی تبدیلی سے؟ کثیر تعداد میںیہ پاکستانیوں کی سب سے بڑی غلطی ہے۔ کسی بھی قوم کا نظام اس کی فکر پر اثر انداز نہیں ہوتا۔ فکر پر نظام کا انحصار ہوتا ہے۔ ہم جو سمجھتے ہیں کہ نظام بدلے گا تو قوم کی اخلاقی اور مذہبی حالت بہتر ہوگی، غلط ہے۔ اصل یہ ہے کہ قوم کی فکر تبدیل ہوگی تو اس کی اخلاقی اور مذہبی حالت میں سدھار آئے گا؛ پھر نظام بہتر ہوگا۔
گویا فکر کی تبدیلی سے نظام تبدیل ہوگا؛ نظام کی تبدیلی سے فکر تبدیل نہیں ہوتی۔ لیکن یہ کہنا جتنا آسان ہے، اسے قبول کرنا اتنا ہی مشکل ہے۔ کیوں؟ کیوں کہ فکر میں تبدیلی یہ تقاضا کرتی ہے کہ تمام تر ذمے داری کو تسلیم کیا جائے اور اس کے لیے درکار قربانی دی جائے۔ نظام کی تبدیلی ’’مجھ‘‘ پر کوئی ذمے داری عائد نہیں کرتی؛ اپنے اندر تبدیلی اور اپنی بہتری کی ضرورت کہیں محسوس نہیں ہوتی۔
 
یہی سب سے بڑا المیہ ہے۔ پاکستان بننے سے پہلے بھی مسلمان یہ سمجھتے رہے کہ پاکستان کی صورت میں انھیں ایک نیا نظام میسر آجائے گا اور وہ تمام مسائل سے نجات پا کر سکون اور اطمینان کی زندگی پاجائیں گے۔ پاکستان کا قیام ناگزیر تھا، لیکن چونکہ خود یہاں کے مسلمانوں نے خود کو بدلنے کی ضرورت محسوس نہیں کی، پاکستان بننے کے بعد بھی مسائل کا شکار ہیں۔ مسائل کی نوعیت اگرچہ بدل گئی ہے، مگر سکون اور قرار نصیب نہیں ہے۔ایسی ہی فکر آج پاکستان کے مختلف طبقات میں موجود ہے اور وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ ایک چھوٹے سے ٹکڑے پر حکم رانی مل جانے سے ان کے دلدر دور ہوجائیں گے۔ مذہبی یا لسانی، گروہی یا علاقائی... ہر سطح پر ہماری اس فکر نے ہمیں وسائل اور حل سے دور کردیا ہے، اور ہم روز بہ روز مسائل اور مشکلات کی گھاٹیوں میں گرتے چلے جارہے ہیں۔

No comments:

Post a Comment