انسانی زندگی میں نشیب و فراز، غربت و امارت کوئی بری بات نہیں... یہ سب اللہ تعالیٰ کے تخلیق کردہ فطری نظام کا حصہ ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ زندگی کے نشیب آدمی کو اڑان کے لیے تیار کرتے ہیں تو غربت سے آدمی کے اندر خود کو بدلنے کا داعیہ پیدا ہوسکتا ہے۔ لیکن یہ سب اسی وقت ہوتا ہے کہ جب آدمی اپنے اندر سوچنے والا دماغ اور احساس کرنے والا دل رکھتا ہو۔ اس کے بغیر نہ نشیب، نہ غربت آدمی کے اپنے اندر تبدیلی لانے کے قابل کرسکتے ہیں۔
جب انسان کسی نشیب یعنی مشکل سے دوچار ہوتا ہے تو اسے فوری طور پر اٹھنے اور آگے بڑھنے کے لیے تنکے کے سہارے کی ضرورت پڑتی ہے۔ تنکے کا یہ سہارا قرض کی صورت میں بھی ہوسکتا ہے، کیوں کہ جب آدمی پریشان ہوتا ہے تو اسے جن شدید ترین مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ان میں سے ایک قسم معاشی یا مالی مسائل کی بھی ہے۔
چنانچہ قرض لے کر وہ فوری طور پر معاشی مسائل سے بے پروا ہوجاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں اپنی تمام تر توجہ اپنے مسائل کو حل کرنے اور اپنی حالات کو بہتر بنانے پر صرف کرتا ہے۔ اسلام نے ایسے شخص کی مدد کرنے کو بہ نظر تحسین دیکھا ہے اور اس عمل کو ’’قرضِ حسنہ‘‘ کہہ کر اس کی تعریف کی ہے۔
لیکن جو شخص قرض کو اپنی عادت بنالے، وہ دنیا میں کبھی سرخ رُو اور کامیاب نہیں ہوسکتا۔ خاص طور پر اگر آدمی خود محنت نہ کرے اور اپنے مالی اخراجات پورے کرنے کے لیے قرض ہی پر تکیہ کرے تو ایسا فرد کبھی ترقی کرسکتا ہے اور نہ اپنی مراد پاسکتا ہے۔ سب سے بڑی بات یہ کہ اس کی عزت معاشرے میں قطعاً نہیں ہوتی، کیوں کہ قرض پر خود کو پالنے والا ہر وقت دوسروں کے سامنے اپنا ہاتھ پھیلائے کھڑا رہتا ہے۔ یہ معاملہ اگر کسی قوم کے ساتھ ہو تو وہ قوم بدترین ذہنی اور فکری بربادی سے دوچار ہوتی ہے۔
قرض، خواہ بغیر سود ہی کیوں نہ لیا جائے، معاشرتی اعتبار سے ناپسندیدہ اور ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ دراصل قرض لینے والے آدمی کی ذہنی صلاحیتوں پر ضرب لگتی ہے اور آدمی کے لیے بھرپور اعتماد اور پورے وثوق کے ساتھ منصوبہ بندی کرنے اور آگے بڑھنے کے راستے مسدود ہوجاتے ہیں۔ وہ معاشرتی، سماجی، اخلاقی اور نفسیاتی ہر اعتبار سے مقید ہوکر رہ جاتا ہے۔ایسے شخص کی فکر کو دیمک لگ جاتی ہے اور اسے کسی مسئلے کا حل سجھائی دیتا ہے اور نہ امید کی کوئی کرن نظر آتی ہے۔ ایک وقت ایسا آتا ہے کہ اس کا یقین بن جاتا ہے کہ قرض لیے اس کی زندگی نہیں گزر سکتی!
اس صورتِ حال سے نکلنے کی صرف یہی شرط ہے کہ اپنے طرزِ حیات پر غور کیا جائے اور قربانی کے لیے خود کو تیار کیا جائے۔ وہ نوالہ جو قرض کے پیسے سے خریدا گیا، اسے ترک کیا جائے، خواہ بھوکارہنا پڑے، اور اس لباس کو اتار پھینکا جائے جو قرض لے کر تیار کرایا گیا ہے، خواہ برہنہ بدن رہنا پڑے۔ تبھی قرض سے نجات ممکن ہے۔ اس کے لیے قربانی ضروری ہے۔اس قانونِ فطرت کو سمجھ لیجیے کہ فرد ہو یا قوم... عزت، ترقی اور کامیابی کا راستہ اسی قربانی سے ہوکر گزرتا ہے۔

No comments:
Post a Comment