امریکا ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے۔ امریکا دنیا کی سب سے بڑی برائی ہے۔ امریکا نے دنیا بھر کا امن غارت کردیا ہے۔ ہماری تباہی، بربادی، مہنگائی اور تمام تر مسائل کا ذمے دار امریکا ہے۔ امریکا نے پوری دنیا پر ظلم و ستم کے جو پہاڑ توڑے ہیں، تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ نہتے مسلمانوں پر امریکی ڈرون حملے کسی دہشت گردی سے کم نہیں!اس قسم کے جملے پاکستان اخبارات کی زینت بنتے ہیں یا سیاسی اور مذہبی جلسوں میں تقاریر کا حصہ ہوتے ہیں۔ امریکا یقیناًاس وقت دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت اور سب سے زیادہ اثر و رسوخ والی سیاسی قوت کا نام ہے۔ اس نے یہ مقام چند روز میں حاصل نہیں کرلیا، بلکہ اس کے پیچھے تقریباً چار سو سال کا عمیق غور و فکر اور مسلسل محنت ہے۔ خیر، یہ ایک بحث ہے، لیکن اس طاق اور قوت کے نتیجے مٰں جو زعم امریکی فوج اور سیاست دانوں میں پیدا ہوا ہے، وہ ہمارا اصل موضوع ہے۔ اس زعم اور گھمنڈ کے نتیجے ہی میں آج ہمارے سامنے دنیا کاوہ قبیح نقشہ موجود ہے جس کے بارے م یں ہم دن رات میڈیا پر پڑھتے، سنتے اور دیکھتے ہیں۔اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ امریکا جو کچھ کررہا ہے، وہ مذہباً، قانوناً، اخلاقاً ہر لحاظ سے غلط اور قابل گرفت ہے۔
لیکن ذرا تحمل سے اس سوال کا جواب تو دیجیے کہ کیا ہم پاکستانی بہ حیثیت قوم اس مزاج کا اظہار نہیں کرتے کہ جس کا گلہ ہمیں امریکا سے ہے؟ ذرا سوچئے....
- کیا آپ مذہبی، لانی، طبقاتی، فکری اختلافات کو دشمنی نہیں بنالیتے؟
- کیا آپ انا اور عزت کے نام پر اپنے سے کم زور اور کم اختیار رکھنے والوں پر زمین تنگ نہیں کردیتے؟
- کیا آپ طاقت اور اختیارات کے زعم میں خدا کو نہیں بھول جاتے؟
- کیا آپ حق دار کو اس کا حق ادا کرتے وقت اپنے دل میں تنگی اور بوجھ محسوس نہیں کرتے؟
- کیا مالک کی حیثیت سے آپ اپنے ملازمین کو کم سے کم معاوضہ دینے کی کوشش نہیں کرتے ہیں؟
- کیا ملازم کی حیثیت سے آپ ادارے کی جانب سے عائد کی گئی ذمے داریوں سے بہ خوشی عہدہ برآ ہوتے ہیں؟
برا نہ مانئے، ہم اپنے مزاج اور کردار کے اعتبار سے امریکا سے کم ظالم نہیں۔ فرق صرف ہے تو یہ کہ امریکا اپنے اختیار اور طاقت کے مطابق اپنے رویے کا اظہار کررہا ہے، اور آپ اپنے اپنے اختیار، طاقت اور رسوخ کے مطابق اپنے رویے کا اظہار کررہے ہیں۔
پھر، خدا نے امریکا کی صورت میں ہم پر جو عذاب مسلط کر رکھا ہے تو اس میں امریکا یا فری میسن کی کوئی سازش ہے؟ ہمارا اپنا ہی قصور ہے۔ لیکن اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے لیے بڑا کلیجا چاہیے جو شاید پوری امت مسلمہ میں سے چند ہی کے پاس ہو!

No comments:
Post a Comment