نوجوان اپنی زندگی کا نصف کالج اور یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کی نذر کردیتے ہیں, اور جب ان کی عمر چوتھے عشرے میں داخل ہوتی ہے تو ان کی توجہ اچھی ملازمت کی طرف جاتی ہے۔ لیکن جب وہ تعلیم گاہ سے نکل کر معاش گاہ کی تلاش میں نکلتے ہیں تو ان کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ تجربے کا ہوتا ہے۔
باوقار اور بامعیار ادارہ اپنے ہاں
ایسے افرادِ کار کو ترجیح دیتا ہے کہ جن کے پاس اپنی فیلڈ کے کام کو کرنے کی مہارت
ہو۔ کوئی بھی ادارہ اپنے قیمتی وسائل کو اپنے کارکنوں کے نت نئے تجربوں کی بھینٹ
نہیں چڑھا سکتا۔ یہ بات ہمارے ہاں کے نوجوان سمجھنے سے قاصر رہے ہیں۔ وہ اچھی
آمدنی کے لیے اچھی ملازمت اور اچھی ملازمت کے لیے اچھی تعلیمی سند کو سب کچھ سمجھ
کر اپنی زندگی کا بڑا حصہ اس میں کھپا دیتے ہیں۔
لیکن یاد رکھیے، تعلیم آپ کو اپنے شعبے اپنے پیشے کا ابجد خواں ضرور بناتی ہے۔ اس شعبے کا ماہر نہیں۔ کسی بھی شعبے میں مہارت کا سراسر تعلق اس شعبے میں عملی طور پر کام کرنے کی مہارت تو تجربے سے آتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ تجربے کا متبادل کبھی تعلیم ہوتی ہے اور نہ ہوسکتی ہے۔ یہ ایک باریک نکتہ ہے جسے ہمارے ہاں کا نوجوان سمجھنے کو تیار نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اپنی زندگی کا پیش تر حصہ اور بہترین توانائیاں تعلیم پر صرف کرنے کے لیے نوجوان جب کہیں ملازمت کے لیے جاتے ہیں تو وہ سولہ سے بیس برس درس گاہ میں گزارنے کے باوجود خود کو کیریر کی پہلی سیڑھی پر پاتے ہیں۔ اس کا حل یہ ہے کہ اپنے کیریر کی فکر ماسٹرز کے بعد کرنے کی بہ جائے میٹرک سے پہلے ہی کیریر کا تعین کرکے اس کے مطابق تجربہ حاصل کرنے کی سعی شروع کردی جائے۔
تعلیم ضروری ہے... لیکن تعلیم، تجربے کے ساتھ ہی موثر ہوتی ہے، خواہ کوئی بھی شعبہ، کوئی بھی پیشہ ہو۔
لیکن یاد رکھیے، تعلیم آپ کو اپنے شعبے اپنے پیشے کا ابجد خواں ضرور بناتی ہے۔ اس شعبے کا ماہر نہیں۔ کسی بھی شعبے میں مہارت کا سراسر تعلق اس شعبے میں عملی طور پر کام کرنے کی مہارت تو تجربے سے آتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ تجربے کا متبادل کبھی تعلیم ہوتی ہے اور نہ ہوسکتی ہے۔ یہ ایک باریک نکتہ ہے جسے ہمارے ہاں کا نوجوان سمجھنے کو تیار نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اپنی زندگی کا پیش تر حصہ اور بہترین توانائیاں تعلیم پر صرف کرنے کے لیے نوجوان جب کہیں ملازمت کے لیے جاتے ہیں تو وہ سولہ سے بیس برس درس گاہ میں گزارنے کے باوجود خود کو کیریر کی پہلی سیڑھی پر پاتے ہیں۔ اس کا حل یہ ہے کہ اپنے کیریر کی فکر ماسٹرز کے بعد کرنے کی بہ جائے میٹرک سے پہلے ہی کیریر کا تعین کرکے اس کے مطابق تجربہ حاصل کرنے کی سعی شروع کردی جائے۔
تعلیم ضروری ہے... لیکن تعلیم، تجربے کے ساتھ ہی موثر ہوتی ہے، خواہ کوئی بھی شعبہ، کوئی بھی پیشہ ہو۔

No comments:
Post a Comment