میری رہائش جس علاقے میں ہے، وہ کراچی کے صاف ستھرے علاقوں میں سے ہے۔ لیکن گزشتہ
دنوں پڑوس میں نئے پڑوسی کی آمدکے بعد سے ان کے گھر کا کوڑا کرکٹ ہمارے دروازے پر
ہوتا ہے۔ وہ جب گھر کا کچرا صاف کرتے ہیں تو کچرے والے کو دینے کی بہ جائے اپنے
دروازے سے باہر نکال ڈالتے ہیں۔ اپنی موٹر سائیکل دھوتے ہیں تو اس کا سارا پانی
گلی میں بہا دیتے ہیں۔
یہ مسئلہ صرف میرا نہیں ہے، شاید میری وجہ سے میرے پڑوسی بھی تکلیف میں ہوں۔
مجموعی طور پر ہمارا مزاج اس مسئلے کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ ایسے ہی بے شمار
مسائل ہیں جن کی وجہ انفرادی مزاج ہے۔ یہ انفرادی مزاج ہمارے اجتماعی مزاج کی
تشکیل کررہا ہے۔ چنانچہ گھر کے سامنے پڑے کچرے اور پانی کے ڈھیر سے لے کر مسلمان
کی عزت و ثروت تک کو داؤ پر لگانے کے لیے ہمہ دم تیار رہتے ہیں۔ اس مزاج کی وجہ سے
اگر ہمارا پڑوسی ہمارے شر سے محفوظ نہیں تو دوسروں کے شر سے اہل وطن اور اہل دین
کو بچانے کی فکر تو بہت بعید ہے۔
جب کسی قوم پر زوال آتا ہے تو اس کا کوئی ایک شعبہ زوال یافتہ نہیں ہوتا بلکہ تمام
ہی شعبہ ہائے زندگی زوال پذیر ہوجاتے ہیں۔ اور جب کسی قوم کا عروج ہوتا ہے تو تمام
ہی شعبے عروج پر ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، محمد بن قاسم نے صرف ایک عورت کے خط
لکھنے پر اپنے آرام و سکون کو تج دیا اور عرب سے ہندوستان آکر اس عورت کو ظالم کے
ظلم سے نجات دلائی۔ لیکن آج ڈاکٹر عافیہ سمیت کتنے ہی مجبور و بے کس لوگ جن کو
دیکھ کر جن کے بارے میں سن کر اور جن کے بارے میں جان کر ہم کہہ دیتے ہیں کہ یہ دوسرے
لوگوں کا مسئلہ ہے۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے درست یا نادرست ہونے کا مسئلہ نہیں ہے،
سوال تو یہ ہے کہ اگر اپنے گھر کا فرد کچھ کرے یا کوئی غیر اس کی شکایت لے کر آئے
تو کیا اپنے پیارے کے عمل کو درست یا نادرست ہونے کا فیصلہ صادر کیا جاتا ہے یا
فوراً اپنے پیارے کو تحفظ فراہم کیا جاتا ہے؟

No comments:
Post a Comment