Tuesday, 10 July 2012

آپ کی فکر



ہر شخص اپنی فکر ہی کو درست سمجھتا اور دنیا کے ہر فرد کی فکر کو غلط۔ یہ ایک فطری امر ہے، لیکن انسان کی یہی فطرت اسے کامیابی سے دور رکھتی ہے۔ آپ جس فکر کے علم بردار ہیں، کسی شے کے بارے میں آپ کی جو رائے ہے، وہ غلط بھی ہوسکتی ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ آپ کی رائے درست ہو۔ لیکن ہم خود کو غلط سمجھنے کے لیے تیار نہیں۔
 کامیابی کا مزاج یہ ہے کہ آدمی کے اندر اتنی لچک ہو کہ وہ ہر دوسری رائے کو خواہ وہ اس کی رائے سے کتنی ہی مختلف اور متضاد کیوں نہ ہو، اسے کشادہ دلی سے سنے اور اس رائے کے بارے میں یہ غور کرے کہ ایسا کیوں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ کسی کے بارے میں جس طرح رائے رکھتے ہیں، اس پر جتنے مستحکم ہیں، اسی طرح ہر دوسرا فرد بھی اپنی رائے پر اتنا ہی مستحکم ہے اور اپنی رائے پر اس کی مضبوط بنیاد ہے۔
محض کسی کو اس وجہ سے غلط قرار دینا اور سمجھنا کہ اس کی رائے آپ کی رائے سے مختلف ہے، دانش مندی نہیں ہے۔ انسانی فکر اور رائے ایک تغیر پذیر شے ہے۔ یہ تغیر وقت کے گزرنے کے، تجربے اور تکلیف کے ساتھ پیدا ہوتا رہتا ہے۔ لیکن اپنی رائے کو پتھر کی لکیر قرار دینا اور اس پر ڈٹے رہنا، ہمارا وطیرہ بن چکا ہے۔ من حیث القوم، ہم اس زَعم میں مبتلا ہیں کہ میں جس شے کے بارے میں جو رائے رکھتا ہوں، وہی درست ہے... بلکہ اکمل (پرفیکٹ) ہے۔
فکر کے بارے میں اس فکر نے ہمیں ذاتی اور اجتماعی دونوں انداز سے شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اس کے نتیجے میں سب سے بڑا نقصان جو ہوا یہ کہ خود پاکستانی اور پاکستان میں رہنے والے مسلمان ایک دوسرے سے دور سے دور ہوتے چلے گئے۔ پھر نتیجہ یہاں تک پہنچا کہ اختلافِ فکر دشمنی بن گیا۔ اس اختلاف فکر نے سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو توڑ پھوڑ ڈالا، تجارتی اور تعلیمی ادارے کئی حصوں میں منقسم ہوگئے اور انتہائی قریبی رشتوں میں دراڑیں پڑگئیں۔
کامیابی کا مزاج یہ ہے کہ آپ اس بات کو سمجھیں کہ آپ جس طرح اپنی فکر کو درست سمجھتے ہیں، بالکل اسی طرح کوئی بھی دوسرا فرد اپنی فکر کو درست سمجھتا ہے اور اسے آپ ہی کی طرح اپنی رائے کو درست سمجھنے کا حق ہے۔ اب آپ کو یہ کرنا ہے کہ اپنی فکر کو کچھ وقت کے لیے طاق پر رکھ کر دوسری فکر پر بھی غور کریں اور اس کے نشیب و فراز و اسباب کو سمجھیں۔بہت ممکن ہے، آپ کی فکر ہی غلط ہو!
اگر آپ اپنی اس فکر کو درست کرلیتے ہیں تو آپ کی کامیابی کی رفتار کہیں بڑھ سکتی ہے۔

No comments:

Post a Comment