کوئی بھی ادارہ، کوئی بھی تحریک، کوئی بھی مشن... جب کامیابی سے ہم کنار ہوا یا
اپنے ہدف تک پہنچا ہے، اس کے پیچھے ایک فرد کی کاوش اور قربانی ہی نظر آتی ہے۔ یہ
بات درست ہے کہ اکیلا آدمی کچھ نہیں کرسکتا اور ایک اکیلا دو گیارہ کے مصداق جب
کئی افراد آپس میں مل جاتے ہیں تو ان کے درمیان تعلق اور ربط سے کوئی بھی ادارہ،
تحریک یا مشن تیزی سے ترقی کرنے لگتا ہے۔
لیکن کسی زمانے کی تاریخ بھی اٹھا کر دیکھ لیجیے، ایسی ہر تحریک کے پیچھے ایک ہی کی قربانی نظر آئے گی۔ اسی طرح اداروں کی ناکامی کے پیچھے، بہت سے عوامل کارفرما ہوتے ہیں مگر ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ادارے کا سربراہ یا ذمے دار، کسی تحریک کا رہ نما، یہ خواہش کرنے لگتا ہے کہ دوسرے بھی اس کے ساتھ قربانی دیں۔ یقیناًکوئی بھی مقصد کئی افراد کی قربانی کا متقاضی ہوتا ہے، لیکن اصل مسئلہ افراد کی قربانی کا نہیں، خود اس مقصد کی بنا ڈالنے والے فرد کی قربانی کا ہے۔ اگر بانی قربانی سے باز آجائے اور دوسرے لوگ قربانی دیتے رہیں تو ان کی یہ قربانی بکرے کی قربانی بن کر رہ جاتی ہے، کیوں کہ مقصد تک لے جانے والا تو بانی ہے جو اصل رہ نما ہے۔ رہ نما کی قربانی سے اجتناب اسے اپنے ہیروز کی رہ نمائی سے بھی بے اعتنا کردیتا ہے۔ یہ کیفیت اس وقت پیدا ہوتی ہے کہ جب رہ نما اس زعم میں مبتلا ہوجائے کہ اس نے بہت قربانی دے دی، اب دوسروں کی باری ہے؛ یا اس کے گرد موجود لوگ بالکل ہی بے نیاز اور بے حس ہوں۔ پہلی صورت میں غرور عمل کے آڑے آجاتا ہے تو دوسری صورت میں مایوسی قدم روک دیتی ہے۔
جمود، خواہ پہلی صورت میں ہویا دوسری صورت میں، خطرناک اور کامیابی کی راہ میں سدِ راہ ہوتا ہے۔
اس بات سے انکار نہیں کہ رہ نما کے ساتھ موجود پیروؤں کو بھی قربانی دینی ضروری ہوتی ہے، کیوں کہ ہر تحریک یا قوم افراد سے بنتی اور تشکیل پاتی ہے، لیکن رہ نما کی قربانی اس لیے سب سے اہم ہوتی ہے کہ اگر اس میں قربانی کا جذبہ موجود نہیں تو بات قطعاً آگے نہیں بڑھ سکتی۔ جب کہ پیروؤں میں سے کسی میں قربانی کا جذبہ نہ ہو تو معاملہ بہ خوبی آگے بڑھتا رہتا ہے۔
مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہم خاتم الانبیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تحریک کا مشاہدہ کریں تو یہ بات بہ خوبی معلوم ہوتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کسی بھی پیرو سے زیادہ قربانی دی، خواہ وہ مکی دور ہو یا مدنی دور۔ یہی مزاج آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں (صحابہ کرامؓ ) میں بھی منتقل کیا۔ چنانچہ جو صحابی کبھی کسی لشکر کا سپہ سالار بنایا جاتا، تاریخ بتاتی ہے، وہ سب سے زیادہ قربانی دے رہا ہوتا۔ اسی طرح، حضرت ابو بکر صدیقؓ سے لے حضرت علیؓ تک اور اس کے بعد دیگر صحابہؓ بھی خواہ وہ اسلامی ریاست کے حکم ران ہوں یا رعایا، انھوں نے جس کام کی ذمے داری لی، اپنے پیش روؤں سے بڑھ کر قربانی دی۔
رہ نما یعنی لیڈر کی قربانی اصل ہے، خواہ معاملہ کسی تحریک کی کامیابی کا ہو یا کسی کارباری ادارے کی ترقی کا۔ لیکن جس تحریک، جس ادارے سے رہ نما یا بانی ہی میں قربانی کا مادہ ختم ہوجائے، وہ تحریک کبھی اپنی منزل تک پہنچ سکی ہے اور نہ کبھی وہ ادارہ ترقی کرسکا ہے۔
لیکن کسی زمانے کی تاریخ بھی اٹھا کر دیکھ لیجیے، ایسی ہر تحریک کے پیچھے ایک ہی کی قربانی نظر آئے گی۔ اسی طرح اداروں کی ناکامی کے پیچھے، بہت سے عوامل کارفرما ہوتے ہیں مگر ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ادارے کا سربراہ یا ذمے دار، کسی تحریک کا رہ نما، یہ خواہش کرنے لگتا ہے کہ دوسرے بھی اس کے ساتھ قربانی دیں۔ یقیناًکوئی بھی مقصد کئی افراد کی قربانی کا متقاضی ہوتا ہے، لیکن اصل مسئلہ افراد کی قربانی کا نہیں، خود اس مقصد کی بنا ڈالنے والے فرد کی قربانی کا ہے۔ اگر بانی قربانی سے باز آجائے اور دوسرے لوگ قربانی دیتے رہیں تو ان کی یہ قربانی بکرے کی قربانی بن کر رہ جاتی ہے، کیوں کہ مقصد تک لے جانے والا تو بانی ہے جو اصل رہ نما ہے۔ رہ نما کی قربانی سے اجتناب اسے اپنے ہیروز کی رہ نمائی سے بھی بے اعتنا کردیتا ہے۔ یہ کیفیت اس وقت پیدا ہوتی ہے کہ جب رہ نما اس زعم میں مبتلا ہوجائے کہ اس نے بہت قربانی دے دی، اب دوسروں کی باری ہے؛ یا اس کے گرد موجود لوگ بالکل ہی بے نیاز اور بے حس ہوں۔ پہلی صورت میں غرور عمل کے آڑے آجاتا ہے تو دوسری صورت میں مایوسی قدم روک دیتی ہے۔
جمود، خواہ پہلی صورت میں ہویا دوسری صورت میں، خطرناک اور کامیابی کی راہ میں سدِ راہ ہوتا ہے۔
اس بات سے انکار نہیں کہ رہ نما کے ساتھ موجود پیروؤں کو بھی قربانی دینی ضروری ہوتی ہے، کیوں کہ ہر تحریک یا قوم افراد سے بنتی اور تشکیل پاتی ہے، لیکن رہ نما کی قربانی اس لیے سب سے اہم ہوتی ہے کہ اگر اس میں قربانی کا جذبہ موجود نہیں تو بات قطعاً آگے نہیں بڑھ سکتی۔ جب کہ پیروؤں میں سے کسی میں قربانی کا جذبہ نہ ہو تو معاملہ بہ خوبی آگے بڑھتا رہتا ہے۔
مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہم خاتم الانبیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تحریک کا مشاہدہ کریں تو یہ بات بہ خوبی معلوم ہوتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کسی بھی پیرو سے زیادہ قربانی دی، خواہ وہ مکی دور ہو یا مدنی دور۔ یہی مزاج آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں (صحابہ کرامؓ ) میں بھی منتقل کیا۔ چنانچہ جو صحابی کبھی کسی لشکر کا سپہ سالار بنایا جاتا، تاریخ بتاتی ہے، وہ سب سے زیادہ قربانی دے رہا ہوتا۔ اسی طرح، حضرت ابو بکر صدیقؓ سے لے حضرت علیؓ تک اور اس کے بعد دیگر صحابہؓ بھی خواہ وہ اسلامی ریاست کے حکم ران ہوں یا رعایا، انھوں نے جس کام کی ذمے داری لی، اپنے پیش روؤں سے بڑھ کر قربانی دی۔
رہ نما یعنی لیڈر کی قربانی اصل ہے، خواہ معاملہ کسی تحریک کی کامیابی کا ہو یا کسی کارباری ادارے کی ترقی کا۔ لیکن جس تحریک، جس ادارے سے رہ نما یا بانی ہی میں قربانی کا مادہ ختم ہوجائے، وہ تحریک کبھی اپنی منزل تک پہنچ سکی ہے اور نہ کبھی وہ ادارہ ترقی کرسکا ہے۔

No comments:
Post a Comment