Friday, 13 July 2012

کیا یہ کرپشن نہیں


Corruption

راولپنڈی سے ایک پرانی قاریہ نے فون پر یہ سوال کیا کہ آج کوئی اخبار یا نیوز چینل ایسا نہیں جو حکومت وقت کی کرپشن کا رونا نہ روتا ہو۔ ہر ہر بچہ بوڑھا، مرد عورت... سبھی پریشان ہیں کہ اس کرپشن نے جینا حرام کردیا ہے اور ہم ہیں کہ روز بہ روز اس کی گرفت میں پھنستے چلے جاتے ہیں۔ وہ پوچھتی ہیں، قرآن میں ہے کہ کسی انسان کو کسی دوسرے کے کیے کی سزا نہیں ملتی تو آج حکومت کی کرپشن کی سزا مظلوم عوام کو کیوں مل رہی ہے؟ 
میں نے ان کی بات سن کر عرض کیا: 
آپ جس قرآن کی بات کررہی ہیں اور اس کی بنیاد پر اعتراض اٹھارہی ہیں، وہ بات آج بھی درست ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عوام کو حکومت کی کرپشن کی سزا نہیں مل رہی، وہ اپنے ہی کرپشن کی سزا بھگت رہے ہیں۔ آپ جس قرآن کو معیار بنا کر پیش کررہی ہیں، خود اس کی روشنی میں عوام کے مظلوم ہونے کی بات غلط ہوتی ہے، بلکہ قرآنی تعلیمات کی روشنی میں پاکستانی عوام ظالم کے زمرے میں آتے ہیں۔ کیسے؟ پہلے تو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ ’’کرپشن‘‘ سے بہ ذاتِ خود کیا مراد ہے۔ دوسری چیز یہ کہ حکم راں اپنے اختیار کے مطابق کرپشن میں لگے ہوئے ہیں تو عوام میں غریب و امیر، اپنے اپنے اختیار کے مطابق کرپشن میں جتے ہوئے ہیں!
اپنے گھر کی صفائی کرکے کچرا گھر کے باہر ڈال پھینک دیتے ہیں؛ کیا یہ کرپشن نہیں؟
گھر میں موسم کا پھل لاتے ہیں اور اس کے چھلکے محلے میں پھینک کر ایک لمحہ یہ بھی نہیں سوچتے کہ شاید میرے محلے میں کسی گھر میں کھانا بھی نہیں پکا؛ کیا یہ کرپشن نہیں؟
والدین شادی کرتے، اولاد پیدا کرتے ہیں مگر انھیں یہ تک احساس نہیں ہوتا کہ اپنی اولاد کو کیا بنانا ہے اور والدین کی حیثیت سے اُن پر اُن کا ’’نظام فکر‘‘ (Ideology) کیا ذمے داریاں عائد کرتا ہے؛ کیا یہ کرپشن نہیں؟
ادارے کا مالک اپنے ملازمین کی تنخواہ بہانوں بہانوں سے کاٹتا ہے اور وہ اجرت انھیں نہیں دیتا جو وہ اپنے لیے کم از کم پسند کرتا ہے؛ کیا یہ کرپشن نہیں؟
ادارے کے ملازمین دیر سے کام پر آتے اور جلدی بھاگنے کی کرتے ہیں؛ کیا یہ کرپشن نہیں؟
ماتحت اپنے مالک اور افسر کے خلاف بدزبانی اور بدگوئی کرتے اور چھوٹی موٹی چیزیں چرا لے جاتے ہیں؛ کیا کرپشن نہیں؟
نماز کے وقت کاروبار میں مصروف رہتے ہیں یا پھر گاہکوں سے فارغ ہوکر تنہا نماز پڑھتے ہیں؛ کیا یہ کرپشن نہیں؟
جب فطرت کام کے لیے پکارتی ہے تو سونے میں مصروف ہوتے ہیں، اور جب سونے کا وقت ہوتا ہے تو بازاروں کی طرف نکل جاتے ہیں؛ کیا یہ کرپشن نہیں؟
سو فی صد پاکستانی غلط سمت (رانگ سائڈ) سے سڑک پار کرتے ہیں؛ کیا یہ کرپشن نہیں؟
ہر اس بات کو بے چوں چرا درست مانتے ہیں جو ہمارا سیاسی یا مذہبی لیڈر کہے، اور ہر اس بات کو یک سر غلط قرار دے دیتے ہیں جو میرے سیاسی یا مذہبی یا فکری مزاج کے خلاف ہو؛ یہ کرپشن نہیں؟
پاکستان کو موجودہ حالات تک پہنچانے میں، میں یہ سمجھتا ہوں کہ صرف حکم راں ہی نہیں، عوام بھی برابر کے کرپشن میں مبتلا ہیں... فرق صرف اختیار اور اس کے نتیجے میں کردار کی حدود کا ہے!

No comments:

Post a Comment