Friday, 13 July 2012

جو کچھ نہیں کرتا، وہ تنقید کرتا ہے

Critics: the easiest job!

کسی نے کہا، دنیا کا سب سے آسان کام دوسروں میں خرابی تلاش کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کوئی قوم زوال پذیر ہوجاتی ہے تو اس کا سب سے دلچسپ مشغلہ بیٹھکوں میں دوسرے فرد یا ادارے کی برائیاں بیان کرنا اور دوسروں پر ٹھٹھے اڑانا رہ جاتا ہے۔ معاشرے کا کوئی طبقہ ہو، کسی شعبۂ زندگی سے اس کا تعلق ہو، موضوع معیشت و معاشرت ہو، یا سیاست و مذہب... فریق مخالف پرکیچڑ اُچھالنا، اسے برا بھلا کہنا، مخالف جماعت کی خامیاں بتانا، اس کے خلاف لٹریچر چھپوانا افراد اور اداروں کا قومی مشغلہ بن چکا ہے۔

خاندان کو لیجیے تو نند بھاوج، ساس بہو، ہم زلف، بہنوں اور بھائیوں کے درمیان صرف جھگڑا ہے تو اس بات کا کہ اس میں تمام وہ خامیاں پائی جاتی ہیں جو کسی انسان میں متوقع ہوسکتی ہیں۔ اور زعم ہے اس کا کہ ہم ایسی کسی بھی خطا سے پاک ہیں۔ دفتر میں افسر اور ماتحت اور قلیقوں کے درمیان دفتری چپقلش کا سبب یہی ہے کہ ماتحت کے زعم میں غلطی پر سراسر اس کا افسر ہے، اور افسر کے خیال میں سارا قصور اس کے ماتحت کا ہے۔
ہمارے تمام نہ سہی، انسانی تعلقات کے اکثر مسائل کی جڑ اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ یہی رویہ ہے۔ اینتھونی روبنز نے تو اس ضمن میں بہت ہی اچھی بات کہی ہے کہ ’’جب میاں بیوی ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں اور ان کے ذہن میں ایک دوسرے کی کم زوریاں اور خامیاں گردش کرنے لگتی ہیں تو وہ ایک دوسرے کو ناپسند کرنے لگتے ہیں اور یہی ذہنی حالت انھیں علاحدگی تک پہنچا دیتی ہے۔‘‘ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ یہی رویہ ہمارے انفرادی اور قومی معاشی ترقی میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ اس کا دوسرا بڑا نقصان زندگی سے اطمینان اور سکون کا غارت ہونا ہے۔
انفرادی اور اجتماعی سطح پر، معاش، مذہب، سیاست، سماج ... ہر شعبۂ زندگی میں ہمارا یہ رویہ اس جانب دلالت کرتا ہے کہ ہم کچھ نہیں کرسکتے، کیوں کہ جو کچھ نہیں کرتا وہ تنقید کرتا ہے۔ اس کے برخلاف جو لوگ کچھ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، وہ تو اپنے ضروری ہی کاموں کے لیے وقت کی کمی کا شکوہ کرتے رہتے ہیں، غیر ضروری کاموں (بالخصوص دوسروں پر تنقید و تنقیص) میں اپنا وقت کیوں برباد کریں۔ بہ قول شخصے، بھائی ہمیں تو تعلقات سنوارنے کے لیے بھی وقت نہیں مل پاتا، ہمیں حیرت ہوتی ہے کہ لوگ تعلقات بگاڑنے کے لیے اتنا وقت کیسے نکال لیتے ہیں۔
آپ کس قسم کے لوگوں میں سے ہیں؟ جنھیں تعلقات سنوارنے کے لیے بھی وقت نہیں مل پاتا یا تعلقات بگاڑنے سے ہی وقت بچ نہیں پاتا؟
اس سوال پر غور کیجیے، اور جواب لکھ کر اسے کسی نمایاں جگہ لگا لیجیے۔ پھر روزانہ اس کے اسباب پر غور کیجیے۔ ہوسکتا ہے، آپ کو کوئی نیا جواب مل جائے!

No comments:

Post a Comment