Friday, 13 July 2012

ہر ایک سے، ہر وقت، بہترین گفت گو

Author: Larry King

لیری کنگ
میں نے براڈ کاسٹر بننے کے سوا کسی اور پیشے کی کبھی خواہش نہیں کی۔ میں چالیس سال سے اس پیشے سے وابستہ ہوں۔ اچھے انداز سے بات کرنے کی صلاحیت زندگی میں ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ اسی کے بہ دولت انسان زندگی میں بڑی بڑی کامیابیاں حاصل کرسکتا ہے۔
میں یہ نہیں کہتا، ’’بولنا بہت آسان ہے‘‘، اگرچہ کچھ لوگ بغیر کسی محنت کے یہ ہنر حاصل کرلیتے ہیں۔ وہ بولنے کے فن کو سیکھے بغیر بولتے رہتے ہیں۔ چنانچہ آپ جتنا زیادہ بولنے کی مشق کریں گے، بولنا اتنا ہی آسان ہوگا۔ کسی بھی شخص سے، کسی بھی وقت، اور کسی بھی جگہ بات کرنے کے فن کو سیکھنے کے لیے میرے چھے بنیادی اصول ہیں۔
1 بات بار بار نہ دُہرائیے
اگر آپ براڈ کاسٹنگ میں میرا پہلا شو دیکھ لیں، اور یہ شرط بھی رکھیں کہ یہ میرا آخری شو ہے تو آپ یہ شرط جیت جائیں گے۔ اس دن میں آخری کامیڈین تھا جو پیشہ ور براڈ کاسٹر کی حیثیت سے ناکام ہوا۔
یکم مئی 1957ء کی صبح ’’وار‘‘ (جگہ کا نام) میں واقع میامی بیچ کے ایک چھوٹے ریڈیو اسٹیشن میں یہ واقعہ پیش آیا۔ مجھے یقین ہوگیا کہ ریڈیو پر پروگرام پیش کرنے کا خواب میں نے خود پاؤں تلے روند ڈالا ہے۔ ریڈیو اسٹیشن کے منیجر کو میری آواز پسند آئی۔ لیکن میرے پروگرام کے افتتاحی کلمات کو بالکل پسند نہیں کیا۔
میں ریڈیو اسٹیشن کے قریب رہتا تھا۔ روزانہ خبریں، مزاحیہ پروگرام، اور ڈرامے دیکھنے کے لیے وہاں جاتا تھا۔ تین ہفتے بعد ایک براڈ کاسٹر نے استعفا دے دیا۔ منیجر نے مجھ سے کہا، میرے پاس آسامی خالی ہے، میں آپ کو بھرتی کرنا چاہتا ہوں۔
میں پورے ہفتے نہیں سو سکا۔ میں ہر روز جملوں کو بار بار دہرانے لگا۔ میں پیر کے دن خوشی سے سرشار تھا۔
جب منیجر نے مجھے اپنے دفتر بلایا اور اپنی خواہش کا اظہار کیا تو پھر میں ہوا میں اڑنے لگا۔ صبح نو بجے میری تصویر کھینچی گئی۔ میں گانا گانے کے لیے اسٹوڈیو میں بیٹھ گیا۔ گانا گاتے ہی لگا کہ میرے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی ہے۔ میں کچھ نہیں بول سکتا تھا۔ میرا حلق خشک ہوگیا۔ اب بھی میری زبان پر کوئی لفظ نہیں آرہا تھا۔ تیسری دفعہ بھی میرے ساتھ یہی ہوا۔ سامعین صرف ایک چیز سن رہے تھے کہ براڈ کاسٹنگ میں ریکارڈنگ بند ہورہی ہے اور چل رہی ہے۔
آخر کار منیجر آپے سے باہر ہوگیا۔دروازہ بند کرنے کے لیے دروازے کو لات ماری اور چیخا، ’’یہ ابلاغ کا کاربار ہے۔‘‘ پھر دروازے کو لات مار کر باہر نکل آیا۔
اس موقع پر مائیکروفون کے سہارے کھڑے ہو کر میں نے کہا، ’’صبح بہ خیر!‘‘ میں یقیناًاس صبح بولنے کے قابل نہیں تھا، تاہم سامعین کے سامنے کچھ نہ کچھ کہہ دیا جس کے نتیجے میں میرے اندر اعتماد پیدا ہوا، اور شو کا آخری حصہ یقینی طور پر بہتر ہوگیا۔
2 برتاؤ اہم ہے
اس سانحے کے بعد میں نے تہیہ کیا تھا کہ میں ہر حال میں بات کرتا رہوں گا، چاہے میں اس پر مطمئن ہوں یا نہ ہوں۔ میں بولنے کی مشق کرتا رہوں گا۔ درست برتاؤ (یعنی بات کرنے کی صلاحیت) بہترین براڈ کاسٹر بننے کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
میرا خیال ہے کہ ایک شے جس کی بہ دولت میں نے براڈ کاسٹنگ میں یقینی کامیابیاں حاصل کیں، یہ ہے کہ سامعین مجھے اس حال میں سنیں کہ جو کچھ میں کہہ رہا ہوں، لوگ اسے پسند کریں۔ آپ اس حقیقت کو نہیں جھٹلا سکتے۔ اگر آپ جھٹلائیں گے تو ناکام ہوجائیں گے۔
ٹومی سورڈا، لاس اینجلس ڈوگر کے سابق منیجر کے مطابق، ایک دفعہ میرے ریڈیو پروگرام میں اس وقت تشریف لائے جب ان کی ٹیم نیشنل لیگ مقابلوں میں شریک تھی اور شرم ناک شکست سے دوچار ہوئی تھی۔ ان کی ہمت اور حوصلے کی وجہ سے آپ بالکل اندازہ نہیں لگا سکتے تھے کہ وہ ایک شکست خوردہ ٹیم کے منیجر ہیں۔ جب میں نے ان سے پوچھا، آپ کس طرح اتنے پُرجوش اور باہمت ہیں؟ تو انھوں نے جواب دیا، ’’اس وقت میری زندگی کا سب سے بہترین دن تھا جب میں ایک جیتنے والی ٹیم کا منیجر تھا۔ میری زندگی کا دوسرا بہترین دن اس وقت تھا جب میں اس شکست خوردہ ٹیم کا منیجر تھا۔‘‘ ان کے اس جوش اور زندہ دلی نے انھیں ایک کامیاب منیجر اور بہترین لسان بھی بنایا۔
3 رُخ ضرور پھیریے
بات کو توجہ سے سننا تو آپ کو ایک بہترین لسان بنا سکتا ہے۔ بہترین گفت گو کرنے والے کی علامت ہے، اچھے سوالات۔
یہ میرا ایک اہم اصول ہے جسے میں ہر صبح اپنے آپ سے دہراتا ہوں۔ یہ کوئی کارنامہ نہیں۔ کاش، میں آج ایسی بات کہہ دوں جو میرے علم میں اضافہ کردے۔ اگر میں باتیں سیکھنے کے لیے جا رہا ہوں تو میں اسے اپنی سماعت کے ذریعے حاصل کروں گا۔
4 موضوعات کو وسیع کیجیے
گفت گو میں مہارت رکھنے والا شخص اپنے روزمرہ اور نجی معاملات پر گفت گو کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر مسائل پر بھی بات کرسکتا ہے۔ آپ جس طرح سفر کے ذریعے اپنی معلومات میں اضافہ کرسکتے ہیں، یہی کام گھر بیٹھے بھی کرسکتے ہیں۔
جب میں چھوٹا بچہ تھا تو میری سوتیلی ماں نے میری پرورش کے لیے ایک معمر خاتون (خادمہ) مقرر کی تھیں، حال آنکہ اس وقت میری سوتیلی ماں کھانے پینے کے لیے بہ مشکل پیسے جمع کرتی تھیں اور ایک چھوٹے سے فلیٹ میں رہتی تھیں۔ ہماری خادمہ کے والد خانہ جنگی میں گرفتار ہوچکے تھے۔ انھوں نے بچپن میں ابراہم لنکن کو دیکھا تھا۔ میں ان سے باتیں کرتا تھا۔ ان کے بارے میں معلومات حاصل کرتا تھا۔ گویا میں نے اپنا بچپن تاریخ کے بارے میں اہم معلومات حاصل کرکے گزارا۔
اس میں اہم نکتہ یہ ہے کہ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ آپ کی سوچ اور گفت گو کے دائرے کو بہت وسیع بنا سکتے ہیں۔
5 نرمی اختیار کیجیے 
گفت گو کے میرے سنہرے اصولوں میں یہ بھی ہے کہ آپ حد سے زیادہ سنجیدہ اور طولانی نہ بنیں۔ میں اپنے مہمانوں سے پُرمزاح انداز رکھتا ہوں۔
6 اپنے رنگ میں رہیے
جس فرد سے بھی میں نے چند منٹ سے زیادہ گفت گو کی، اسے کم از کم دو چیزیں میرے بارے میں ضرور معلوم ہوئیں۔ میرا تعلق برولکن، نیویارک سے ہے اور میں یہودی ہوں۔
گفت گو کے دوران میں اتنے فراخ دل اور کشادہ بن جائیے کہ جتنی فراخ دلی اور کشادگی آپ گفت گو کرنے والے دوست سے چاہتے ہیں، کیوں کہ وہ بھی آپ کے بارے میں یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آپ کا تعلق کہاں سے ہے، کیا پسند کرتے ہیں اور کیا نہیں پسند کرتے۔
مزاج پُرسی بات چیت کا حصہ ہے، اور لوگوں سے واقفیت حاصل کرنے کا ذریعہ بھی۔ ٹاک شو کے میزبان ریجس فلپس اور کیتھی لی کے تمام میزبان ایک مرتبہ اچانک میرے گھر تشریف لائے۔ وہ لوگ اپنے واقعات بتانے سے نہ گھبرائے اور نہ جذبات کے اظہار سے خوف زدہ ہوئے۔
میں نے اپنے چالیس سالہ براڈ کاسٹنگ دَور میں یہ بات سیکھی۔ آپ دیانت دار بن جائیے، کبھی بھی ناکام نہیں ہوں گے۔
آپ خواہ ایک آدمی سے بات کریں یا لاکھوں لوگوں سے، یہ اصول یک ساں ہیں۔
تعلقات کا دار و مدار انھی اصولوں پر ہے۔ گفت گو کے دوران میں ہمدردی، جوش اور نیک خواہشات کا مظاہرہ کیجیے۔ اگر ان اصولوں پر عمل کریں گے تو گفت گو میں مہارت حاصل کرسکیں گے۔

1 comment:

  1. it is really a valuable for me......thanks

    ReplyDelete