Tuesday, 17 July 2012

اسٹیفن کوی کی یاد میں


اسٹیفن کوی کی یاد میں
جو 16جولائی 2012ء کو اس دنیا سے چلا گیا

ہر شے دو مرتبہ پیدا ہوتی ہے:
پہلی پیدائش ذہنی، اور دوسری پیدائش مادی یا ظاہری!

خوف کی غیر موجودگی کا نام، جرات نہیں ہے۔
بلکہ یہ شعور کہ اس کے سوا کوئی اور چیز زیادہ اہم ہے۔

کردار، بنیادی طور پر ہماری عادات کا مجموعہ ہوتا ہے۔
یہ عادات مستقل اور لاشعوری ڈھب ہوتے ہیں
جو مستقل طور پر روزانہ ہمارے کردار کی تشکیل کرتے ہیں۔

Sunday, 15 July 2012

تھری پیس بابو



پاکستان اور ہندستان کی فلموں میں ایک زمانے میں ’’بابو‘‘ مرکزی کردار کی حیثیت رکھتا تھا۔ خاص طور پر بیسویں صدی کے پانچویں اور چھٹے عشرے کی فلموں میں پوری فلم ’’بابو‘‘ کے گرد گھوما کرتی تھی۔ یہ بابو ایک سرکاری یا نجی ادارے میں معمولی درجے کا کلرک ہوا کرتا تھا، اور اس پر گاؤں کی گوری فدا ہواکرتی تھی۔

Saturday, 14 July 2012

خریدا ہوا مال واپس یا تبدیل نہیں ہوگا

چند روز پہلے میں کچھ خریداری کرنے بازار گیا تو جو چیز مجھے درکار تھی، وہ مجھے ایک دکان سے نہیں ملی۔ دکان دار نے بڑے روکھے انداز میں مجھے بتایا کہ اس کے پاس میری مطلوبہ شے نہیں ہے۔  میں نے دکان دار سے گزارش کی کہ آپ یہ جواب خوش اخلاقی اور خوش اسلوبی سے بھی دے سکتے تھے۔ اس پر وہ دکان دار مزید بپھر گیا اور بولا، کیا تمھارے پاؤں پکڑ لوں؟

Friday, 13 July 2012

کیا یہ کرپشن نہیں


Corruption

راولپنڈی سے ایک پرانی قاریہ نے فون پر یہ سوال کیا کہ آج کوئی اخبار یا نیوز چینل ایسا نہیں جو حکومت وقت کی کرپشن کا رونا نہ روتا ہو۔ ہر ہر بچہ بوڑھا، مرد عورت... سبھی پریشان ہیں کہ اس کرپشن نے جینا حرام کردیا ہے اور ہم ہیں کہ روز بہ روز اس کی گرفت میں پھنستے چلے جاتے ہیں۔ وہ پوچھتی ہیں، قرآن میں ہے کہ کسی انسان کو کسی دوسرے کے کیے کی سزا نہیں ملتی تو آج حکومت کی کرپشن کی سزا مظلوم عوام کو کیوں مل رہی ہے؟ 

جو کچھ نہیں کرتا، وہ تنقید کرتا ہے

Critics: the easiest job!

کسی نے کہا، دنیا کا سب سے آسان کام دوسروں میں خرابی تلاش کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کوئی قوم زوال پذیر ہوجاتی ہے تو اس کا سب سے دلچسپ مشغلہ بیٹھکوں میں دوسرے فرد یا ادارے کی برائیاں بیان کرنا اور دوسروں پر ٹھٹھے اڑانا رہ جاتا ہے۔ معاشرے کا کوئی طبقہ ہو، کسی شعبۂ زندگی سے اس کا تعلق ہو، موضوع معیشت و معاشرت ہو، یا سیاست و مذہب... فریق مخالف پرکیچڑ اُچھالنا، اسے برا بھلا کہنا، مخالف جماعت کی خامیاں بتانا، اس کے خلاف لٹریچر چھپوانا افراد اور اداروں کا قومی مشغلہ بن چکا ہے۔

میں اس وقت کیا کشش کر رہا ہوں؟


What am I attracting NOW?

 قانونِ کشش (لا آف ایٹریکشن) کے بارے میں، اور اس پر یقین کرنے کے بعد اگلا سوال اکثر یہ کیا جاتا ہے کہ ’’مجھے یہ کیسے معلوم ہو کہ میں اس وقت کیا کشش کررہا/ کررہی ہوں؟‘‘
قانونِ کشش پر عمل کرنے کے لیے یہ سوال بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ اس سوال کے جواب کی ابتدا سوچ کی عادت کے جائزے سے ہوتی ہے، یعنی ہم ساری زندگی جس انداز سے سوچتے چلے آئے ہیں، سوچ کا وہی انداز، ہماری عادت بن جاتا ہے۔ چنانچہ درج بالا سوال (مجھے یہ کیسے معلوم ہو کہ اس وقت کیا کشش کررہا/ کررہی ہوں) کا جواب معلوم کرنے کے لیے سب سے پہلے یہ جائزہ لینا ہوگا کہ آپ کی سوچنے کی عادت کیا ہے؟ یا آپ کس انداز سے سوچتے ہیں؟

ہر ایک سے، ہر وقت، بہترین گفت گو

Author: Larry King

لیری کنگ
میں نے براڈ کاسٹر بننے کے سوا کسی اور پیشے کی کبھی خواہش نہیں کی۔ میں چالیس سال سے اس پیشے سے وابستہ ہوں۔ اچھے انداز سے بات کرنے کی صلاحیت زندگی میں ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ اسی کے بہ دولت انسان زندگی میں بڑی بڑی کامیابیاں حاصل کرسکتا ہے۔
میں یہ نہیں کہتا، ’’بولنا بہت آسان ہے‘‘، اگرچہ کچھ لوگ بغیر کسی محنت کے یہ ہنر حاصل کرلیتے ہیں۔ وہ بولنے کے فن کو سیکھے بغیر بولتے رہتے ہیں۔ چنانچہ آپ جتنا زیادہ بولنے کی مشق کریں گے، بولنا اتنا ہی آسان ہوگا۔ کسی بھی شخص سے، کسی بھی وقت، اور کسی بھی جگہ بات کرنے کے فن کو سیکھنے کے لیے میرے چھے بنیادی اصول ہیں۔

Thursday, 12 July 2012

کامیابی یا ناکامی کوئی شے نہیں



شمارہ بالکل آخری مرحلوں پر ہے اور میں اداریہ لکھنے بیٹھا ہوں کہ باہر سے ایک آواز کانوں میں آرہی ہے: ’’جمعرات کا دن ہے... گھر میں کھانے کی تنگی ہے... کچھ اللہ کے نام پر مدد کردو!‘‘ ہر جمعرات کو یہ فقیر برسوں سے اسی باقاعدگی سے آرہا ہے اور انھی الفاظ کی صدا لگاتا ہے۔
 

Wednesday, 11 July 2012

لیڈر ایک ہی ہوتا ہے



کوئی بھی ادارہ، کوئی بھی تحریک، کوئی بھی مشن... جب کامیابی سے ہم کنار ہوا یا اپنے ہدف تک پہنچا ہے، اس کے پیچھے ایک فرد کی کاوش اور قربانی ہی نظر آتی ہے۔ یہ بات درست ہے کہ اکیلا آدمی کچھ نہیں کرسکتا اور ایک اکیلا دو گیارہ کے مصداق جب کئی افراد آپس میں مل جاتے ہیں تو ان کے درمیان تعلق اور ربط سے کوئی بھی ادارہ، تحریک یا مشن تیزی سے ترقی کرنے لگتا ہے۔

Tuesday, 10 July 2012

آپ کی فکر



ہر شخص اپنی فکر ہی کو درست سمجھتا اور دنیا کے ہر فرد کی فکر کو غلط۔ یہ ایک فطری امر ہے، لیکن انسان کی یہی فطرت اسے کامیابی سے دور رکھتی ہے۔ آپ جس فکر کے علم بردار ہیں، کسی شے کے بارے میں آپ کی جو رائے ہے، وہ غلط بھی ہوسکتی ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ آپ کی رائے درست ہو۔ لیکن ہم خود کو غلط سمجھنے کے لیے تیار نہیں۔

Monday, 9 July 2012

مجموعی مزاج



میری رہائش جس علاقے میں ہے، وہ کراچی کے صاف ستھرے علاقوں میں سے ہے۔ لیکن گزشتہ دنوں پڑوس میں نئے پڑوسی کی آمدکے بعد سے ان کے گھر کا کوڑا کرکٹ ہمارے دروازے پر ہوتا ہے۔ وہ جب گھر کا کچرا صاف کرتے ہیں تو کچرے والے کو دینے کی بہ جائے اپنے دروازے سے باہر نکال ڈالتے ہیں۔ اپنی موٹر سائیکل دھوتے ہیں تو اس کا سارا پانی گلی میں بہا دیتے ہیں۔

Sunday, 8 July 2012

تعلیم اور تجربے کا توازن



نوجوان اپنی زندگی کا نصف کالج اور یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کی نذر کردیتے ہیں, اور جب ان کی عمر چوتھے عشرے میں داخل ہوتی ہے تو ان کی توجہ اچھی ملازمت کی طرف جاتی ہے۔ لیکن جب وہ تعلیم گاہ سے نکل کر معاش گاہ کی تلاش میں نکلتے ہیں تو ان کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ تجربے کا ہوتا ہے۔

Saturday, 7 July 2012

آپ امریکا سے کم ظالم تو نہیں



امریکا ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے۔ امریکا دنیا کی سب سے بڑی برائی ہے۔ امریکا نے دنیا بھر کا امن غارت کردیا ہے۔ ہماری تباہی، بربادی، مہنگائی اور تمام تر مسائل کا ذمے دار امریکا ہے۔ امریکا نے پوری دنیا پر ظلم و ستم کے جو پہاڑ توڑے ہیں، تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ نہتے مسلمانوں پر امریکی ڈرون حملے کسی دہشت گردی سے کم نہیں!
اس قسم کے جملے پاکستان اخبارات کی زینت بنتے ہیں یا سیاسی اور مذہبی جلسوں میں تقاریر کا حصہ ہوتے ہیں۔

Friday, 6 July 2012

قرض پر پلنے والے جسم



انسانی زندگی میں نشیب و فراز، غربت و امارت کوئی بری بات نہیں... یہ سب اللہ تعالیٰ کے تخلیق کردہ فطری نظام کا حصہ ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ زندگی کے نشیب آدمی کو اڑان کے لیے تیار کرتے ہیں تو غربت سے آدمی کے اندر خود کو بدلنے کا داعیہ پیدا ہوسکتا ہے۔ لیکن یہ سب اسی وقت ہوتا ہے کہ جب آدمی اپنے اندر سوچنے والا دماغ اور احساس کرنے والا دل رکھتا ہو۔ اس کے بغیر نہ نشیب، نہ غربت آدمی کے اپنے اندر تبدیلی لانے کے قابل کرسکتے ہیں۔
جب انسان کسی نشیب یعنی مشکل سے دوچار ہوتا ہے تو اسے فوری طور پر اٹھنے اور آگے بڑھنے کے لیے تنکے کے سہارے کی ضرورت پڑتی ہے۔ تنکے کا یہ سہارا قرض کی صورت میں بھی ہوسکتا ہے، کیوں کہ جب آدمی پریشان ہوتا ہے تو اسے جن شدید ترین مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ان میں سے ایک قسم معاشی یا مالی مسائل کی بھی ہے۔
چنانچہ قرض لے کر وہ فوری طور پر معاشی مسائل سے بے پروا ہوجاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں اپنی تمام تر توجہ اپنے مسائل کو حل کرنے اور اپنی حالات کو بہتر بنانے پر صرف کرتا ہے۔ اسلام نے ایسے شخص کی مدد کرنے کو بہ نظر تحسین دیکھا ہے اور اس عمل کو ’’قرضِ حسنہ‘‘ کہہ کر اس کی تعریف کی ہے۔
لیکن جو شخص قرض کو اپنی عادت بنالے، وہ دنیا میں کبھی سرخ رُو اور کامیاب نہیں ہوسکتا۔ خاص طور پر اگر آدمی خود محنت نہ کرے اور اپنے مالی اخراجات پورے کرنے کے لیے قرض ہی پر تکیہ کرے تو ایسا فرد کبھی ترقی کرسکتا ہے اور نہ اپنی مراد پاسکتا ہے۔ سب سے بڑی بات یہ کہ اس کی عزت معاشرے میں قطعاً نہیں ہوتی، کیوں کہ قرض پر خود کو پالنے والا ہر وقت دوسروں کے سامنے اپنا ہاتھ پھیلائے کھڑا رہتا ہے۔ یہ معاملہ اگر کسی قوم کے ساتھ ہو تو وہ قوم بدترین ذہنی اور فکری بربادی سے دوچار ہوتی ہے۔
قرض، خواہ بغیر سود ہی کیوں نہ لیا جائے، معاشرتی اعتبار سے ناپسندیدہ اور ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ دراصل قرض لینے والے آدمی کی ذہنی صلاحیتوں پر ضرب لگتی ہے اور آدمی کے لیے بھرپور اعتماد اور پورے وثوق کے ساتھ منصوبہ بندی کرنے اور آگے بڑھنے کے راستے مسدود ہوجاتے ہیں۔ وہ معاشرتی، سماجی، اخلاقی اور نفسیاتی ہر اعتبار سے مقید ہوکر رہ جاتا ہے۔ایسے شخص کی فکر کو دیمک لگ جاتی ہے اور اسے کسی مسئلے کا حل سجھائی دیتا ہے اور نہ امید کی کوئی کرن نظر آتی ہے۔ ایک وقت ایسا آتا ہے کہ اس کا یقین بن جاتا ہے کہ قرض لیے اس کی زندگی نہیں گزر سکتی!
اس صورتِ حال سے نکلنے کی صرف یہی شرط ہے کہ اپنے طرزِ حیات پر غور کیا جائے اور قربانی کے لیے خود کو تیار کیا جائے۔ وہ نوالہ جو قرض کے پیسے سے خریدا گیا، اسے ترک کیا جائے، خواہ بھوکارہنا پڑے، اور اس لباس کو اتار پھینکا جائے جو قرض لے کر تیار کرایا گیا ہے، خواہ برہنہ بدن رہنا پڑے۔ تبھی قرض سے نجات ممکن ہے۔ اس کے لیے قربانی ضروری ہے۔اس قانونِ فطرت کو سمجھ لیجیے کہ فرد ہو یا قوم... عزت، ترقی اور کامیابی کا راستہ اسی قربانی سے ہوکر گزرتا ہے۔

Thursday, 5 July 2012

بد ترین حالت



کسی قوم یا فرد کی بدترین حالت وہ ہوتی ہے جب اس کی سوچ زنگ آلود ہوجائے۔ سوچ، نظر نہیں آتی، مگر حال اور مستقبل کی تعمیر اور تخریب میں اسی کا ہاتھ کارفرما ہوتا ہے۔ دنیا میں، فرد ہو یا قوم، اس کی سوچ ہی اس کی منزل کا تعین کرتی ہے۔ سوچ نہ صرف باہر کے افعال کا ظہور کرتی ہے بلکہ اندر کی کیفیت بھی بیان کرتی ہے۔ بات قوم کی ہو تو قوم کی مجموعی سوچ ہی اس کے دن رات اور انفرادی و اجتماعی مفادات کو سمت عطا کرتی ہے۔
 

Wednesday, 4 July 2012

زندگی کا سب سے مشکل کام

زندگی کا سب سے مشکل کام کیا ہے؟
کبھی آپ نے یہ سوال اپنے آپ سے کیا؟
 
جواب بہت آسان ہے: تبدیلی!
انسانی زندگی کا سب سے مشکل کام تبدیلی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آدمی ہر لمحہ اس فکر میں رہتا ہے کہ فلاں تبدیلی کے نتیجے میں نہ معلوم کیا ہوگا، اسے کیا نیا کام کرنا پڑے گا۔ چنانچہ آدمی اپنے تئیں اس تبدیلی اور اس کے اثرات سے بچنے کی شدید ترین کوشش کرتا رہتا ہے۔

Tuesday, 3 July 2012

کیا ہمارا دین ہماری بہترین صلاحیتوں کا مستحق نہیں


وہ میرے قریبی دوستوں میں سے ہیں۔ اعلاتعلیم یافتہ اور با اَخلاق شخصیت کے مالک ہیں۔ محفل میں دل سے شریک ہوتے ہیں اور لوگوں سے گھل مل کر بات چیت کرتے ہیں۔ اپنے پروفیشن کے حوالے سے وہ مجھ سے خاصی گفت گو کرتے اور میرے اختلافات کو پوری توجہ سے سنتے ہیں۔ میرے مشوروں پر توجہ دیتے ہیں اور اپنی خامیوں کودور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ میرے خیال میں وہ ایک وسیع ظریف اور سلیم طبع آدمی ہیں۔
 گزشتہ دنوں ایسی ہی ایک محفل میں ان سے ایک مذہبی مسئلے پر بات چھڑ گئی میں نے ان کی رائے سے حسب عادت اختلافات کیا تو خلافِ توقع وہ ایک دم غصے میں آگئے۔

Monday, 2 July 2012

نظام کی تبدیلی سے بھی پہلے


Before changing the system

معاشرے پر نظر ڈورائیں تو عمومی طور پر تین قسم کے افراد نظر آتے ہیں: ایک تو وہ جو دن رات کسی قسم کا احساس کیے بغیر اپنے کاموں میں مگن ہیں اور انھیں دوسرے فرد یا معاشرے سے کوئی سروکار نہیں۔ دوسری قسم کے افراد وہ ہیں جنھیں معاشرے کی اخلاقی ابتری کا احساس ہے، مگر سوائے کڑھنے یا چند ہم خیال دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر خامیاں اور برائیاں ذکر کرنے کے کچھ نہیں کرتے۔ تیسری قسم کے افراد

Sunday, 1 July 2012

کامیاب نوجوان، کتاب

Kamyab Naujawan
نوجوانی ... زندگی کا سب سے حسین اور دل رُبا دَور ہوتا ہے۔ نوجوان لڑکا ہو یا لڑکی، ایشیا کا ہو یا افریقہ کا، یورپ کا، امیر ہو یا غریب... اس کے اندر جذبات و خواہشات کا تلاطم خیز طوفان ہوتا ہے جو تھمے نہیں تھمتا۔ ایسا ہونا بھی چاہیے، کیوں کہ یہی اس عمر کا تقاضا ہے۔ اسی سے اس زمانے کا حُسن ہے۔ لیکن یہ دَور جتنا حسین اور دِل رُبا ہے، اتنا ہی نازک اور خطرناک بھی۔

فطرت کی آواز


Listen to Nature

میرے سامنے پاکستان کی مہنگائی اور دنیا بھر کے موجودہ اقتصادی حالات اور گرتی ہوئی معیشت کے اعداد و شمار ہیں، جنھوں نے پوری دنیا کو بہ شمول پاکستان اپنی لپیٹ میں جکڑ رکھا ہے۔ لیکن میرا موضوع یہ معاشی حالات ہیں اور نہ عالمی کساد بازاری... مجھے اس بات کی فکر بھی کھائے نہیں جارہی کہ عالمی معیشت کا کیا بنے گا؟ ہاں، میرا موضوع پاکستان کا وہ طبقہ ہے جو بہ راہِ راست اس مہنگائی اور معاشی نشیب و فراز سے متاثر ہے۔ مجھے اس بات کی فکر ہے کہ